.

ایران تیزی سے شام سے نکل جائے ، ورنہ حملے جاری رہیں گے : نیتن یاہو

اسرائیلی فوج نے شام میں اپنے فضائی حملوں سے ایران کو فوجی قدم پھیلانے سے روک دیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران سے کہا ہے کہ وہ جلد سے جلد شام سے اپنی فورسز کو نکال لے ۔اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو پھر شام میں اس پر اسرائیل کے حملے جاری رہیں گے۔

نیتن یاہو نے منگل کے روز اسرائیل کی مسلح افواج کے نئے سربراہ کے عہدہ سنبھالنے کے موقع پر تل ابیب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’ گذشتہ کل میں نے ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ شام میں ایران کا کوئی فوجی موجود نہیں اور ہم انھیں صرف مشورے دیتے ہیں‘‘۔

’’ مجھے ان سے یہ کہنے دیجیے کہ وہ وہاں سے جلد سے جلد نکل جائیں ، کیونکہ ہم حملوں کے لیے اپنی طاقتور پالیسی پر عمل جاری رکھیں گے۔ہم نے یہ وعدہ کیا تھا اور ہم بے خوفی اور انتھک انداز میں اس پالیسی پر عمل کررہے ہیں‘‘۔انھوں نے ایرانیوں کو مخاطب کرکے مزید کہا۔

نیتن یاہو نے اتوار کو پہلی مرتبہ ایک عوامی بیان میں شام میں ایران کی تنصیبات پر حملوں کا تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اختتام ہفتہ پر دمشق کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود ایک ایرانی گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا اور وہاں ایرانی اسلحہ ذخیرہ کیا گیا تھا۔

انتہا پسند صہیونی وزیراعظم نے مزید یہ اقرار نما انکشاف کیا تھا کہ شام میں ایرانیوں اور حزب اللہ کے اہداف پر اسرائیل نے سیکڑوں مرتبہ حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے نئے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل آواوی کوشاوی کے لیے تقریب میں نیتن یاہو نے اپنی اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کا مرکزی سکیورٹی چیلنج ایران اور اس کی آلہ کار دہشت گرد تنظیمیں تھیں مگر اسرائیلی فوج نے شام میں ایران کو فوجی پاؤں پھیلانے سے روک دیا ہے‘‘۔

اسرائیلی فوج گذشتہ چند برسوں سے پڑوسی ملک میں ایران کو فوجی قدم پھیلانے سے روکنے کے لیے حملے کررہی ہے۔ شام میں ایران خود ،اس کی آلہ کار لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور روس صدر بشار الاسد کی حمایت میں لڑرہے ہیں۔ان تینوں کی عسکری حمایت کی بدولت ہی شامی صدر اپنے خلاف بغاوت برپا کرنےو الے گروپوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے ہیں اور ان کی فوج نے چند ایک سوا باقی تمام علاقے باغیوں سے واگزار کرا لیے ہیں۔

واضح رہے کہ ایران شام میں اپنے حاضر سروس فوجیوں کو بھیجنے کی اطلاعات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا یہ مؤقف رہا ہے کہ اس نے شام میں صرف اپنے فوجی مشیروں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کو باغی گروپوں کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجا تھا۔ ایرانی حکام کا یہ بھی مؤقف رہا ہے کہ شام میں شیعہ نوجوانوں پر مشتمل ملیشیاؤں کو مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے بھیجا گیا تھا لیکن یہ جنگجو حلب جیسے دور دراز علاقوں میں بھی باغیوں کے خلاف لڑتے رہے ہیں جہاں اہل تشیع کا کوئی متبرک مقام نہیں ہے۔