.

دوحہ میں موجود ترک تنصیبات میں قطری حکام کو داخلے کی اجازت نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی سرزمین پر ترک فوج کی تعیناتی کے سمجھوتے کے حوالے سے لیک ہونے والی تفصیلات میں ایک حیران کن انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ دوحہ میں موجود ترکی کی فوجی تنصیبات میں قطری حکام کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔


العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق قطر اور ترکی کے درمیان طے شدہ معاہدے میں کہا گیا ہے ترک فوج دوحہ میں جن عمارتوں کو استعمال کرے گی، ان میں قطری حکام کو آمد ورفت کی اجازت نہیں ہوگی۔ معاہدے کی یہ شق پوری دنیا میں خود مختاری کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو معاہدے کی مزید تفصیلات معلوم ہوئی ہیں۔ شق 6 میں کہا گیا ہے کہ دوحہ میں وہ تمام املاک ، مقامات اور تنصیبات جو ترک فوج کے استعمال میں ہوں گی وہ قطر کی ملکیت ہونے کے باوجود انتظامی طورپر ترکی کے پاس رہیں گی اورترک حکام کی اجازت اور مرضی کے خلاف انہیں قطری استعمال نہیں کرسکیں گے۔

معاہدے میں کہا گیا ہے کہ اگر قطری حکام دوحہ میں موجود ترک تنصیبات کے استعمال کی ضرورت محسوس کریں تو انہیں اس کی تحریری اجازت حاصل کرنا ہوگی۔

خیال رہے کہ ترکی اور قطر کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ 16 اپریل 2016ء کو طے پایا تھا۔اس میں جون 2017ء میں ترک پارلیمنٹ کی جانب سے توثیق کے بعد توسیع کردی گئی تھی۔ 16 صفحات پرمشتمل اس معاہدے پر دونوں ملکوں کے وزرائے دفاع نے دستخط کیے تھے۔ معاہدے کے تحت ترکی کو قطری سرزمین پر اپنا فوجی اڈا قائم کرنے کی اجازت دی گئی۔ معاہدے کی بہت سی شقیں مخفی رکھی گئی ہیں، جس پر دوسرے خلیجی ملکوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔