.

سویڈن معاہدے کو ایک ماہ گزر گیا اور کچھ حاصل نہیں ہوا: یمنی حکومت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے وزیر خارجہ خالد الیمانی کا کہنا ہے کہ سویڈن معاہدے کو ایک ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی، بندرگاہوں اور کسی بھی جگہ سے حوثی ملیشیا کا انخلا نہیں ہوا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر موافقت نہیں ہو سکی۔

الیمانی کے مطابق یمنی، سعودی اور اماراتی مشن حوثیوں کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو بھیجیں گے۔

الیمانی کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے ساتھ جنگوں کے آغاز کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 75 معاہدے طے پا چکے ہیں۔ تاہم حوثیوں نے ان میں سے کسی پر عمل درامد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یمن آج بین الاقوامی نگرانی کے تحت ہے۔ الیمانی نے مبصر مشن کے سربراہ جنرل کائمرٹ کی ذمے داری کو مشکل قرار دیا کیوں کہ وہ ایسے گروہوں سے نمٹ رہے ہیں جو نہ تو بین الاقوامی قانون کا احترام کرتے ہیں اور نہ کسی معاہدے کا۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے خطے کے دورے میں صحافیوں کو آگاہ کیا کہ حوثی ملیشیا سویڈن معاہدے کی شقوں کا احترام نہیں کر رہی ہے۔ ادھر ریاض میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں حالات پر سکون رکھنے اور سویڈن معاہدے کی شقوں تک محدود رہنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ جامع سیاسی حل ہی تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ ہے۔

یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس رواں ماہ 19 جنوری کو عمان میں قیدیوں سے متعلق معاہدے پر عمل درامد کی نگراں کمیٹی سے ملاقات کریں گے تا کہ فریقین کے درمیان جمود کو توڑنے اور عدم اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش کی جا سکے۔