.

شام میں فوجی سرگرمیاں جاری رکھیں گے،ایران کا اسرائیل کو دو ٹوک جواب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے شام میں اپنی فوج اور ملیشیائوں کی موجودگی کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کو باور کرایا ہے کہ ایران شام میں اپنی فوجی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔ اگر اس پر صہیونی ریاست کو کوئی اعتراض ہے تو اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر میجر جنرل حسن فیروز آبادی نے کہا کہ شام میں ہماری فوج اور عسکری سرگرمیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے یہ بات اسرائیل کی طرف سے کیے گئے اس دعوے کے بعد کی گئی ہے جس میں صہیونی ریاست نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے گذشتہ دو سال کے دوران شام میں ایران کی دسیوں تنصیبات تباہ کی ہیں۔

خبر رساں ادارے "ارنا" کے مطابق جنرل فیروز آبادی نے کہا کہ جب تک شام میں دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے اس وقت تک ایرانی فوج شام میں موجود رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایرانی فوج شامی حکومت کی درخواست پر دمشق کی معاونت کے لیے تعینات کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیل کے آرمی چیف جنرل گیڈی آئزنکوٹ نے امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ہم نے شام میں ایران کی تنصیبات پر ہزاروں حملے کیے۔ ان حملوں کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں جنوری 2017ء کے بعد سے اسرائیل نے ایرانی تنصیبات،حزب اللہ ملیشیا اور اسد رجیم کے ٹھکانوں پر بمباری جاری رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے شام میں فوجی قافلوں اور فوجی بسوں کو بھی نشانہ بنایا اور 2011ء میں شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد حزب اللہ ملیشیا کے ٹھکانوں پر بمباری کی جاتی رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ شام میں ایرانی فوج کی مداخلت کے بعد ایرانی تزویراتی حکمت عملی میں واضح تبدیلی آئی۔ ایران شام میں اپنا اثرونفوذ قائم کرنے کے لیے 1 لاکھ جنگجوئوں پر مشتمل فورس قائم کررہا ہے جس کے لیے پاکستان، افغانستا اور عراق سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھرتی کیا جاتا ہے۔

جنرل گیڈی آئزنکوٹ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے بیرون ملک ملیشیا کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو خبردار کیا کہ انہوں نے اسرائیل کے خلاف حملوں کے لیے شام کی سرزمین کو اپنا اڈا بنانے کا فیصلہ کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ ہم شام کی پوری فضائی حدود پر اپنی بالادستی رکھتے ہیں اور ہمیں کچھ بھی کرنے کا جواز حاصل ہے۔