.

شمالی شام کو بشار حکومت کے کنٹرول میں دینا چاہیے : روسی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف کا کہنا ہے کہ شمالی شام پر شامی فوج کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ لاؤروف کا یہ موقف امریکا کی جانب سے ترکی کے زیر کنٹرول ایک "سیف زون" قائم کرنے کی تجویز کے بعد سامنے آیا ہے۔

بدھ کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہوئے لاؤروف کا کہنا تھا کہ "ہم اس بات کے قائل ہیں کہ واحد اور مثالی حل یہ ہے کہ ان علاقوں کو شامی حکومت، شامی سکیورٹی فورسز اور انتظامی اداروں کے کنٹرول میں دے دیا جائے"۔

اس سے قبل ترکی کے صدر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس اور ترکی کی سرحد کے درمیان فاصلے کے لیے انقرہ کی فورسز اُس "سیف زون" کے قیام کی ذمے داری سنبھالیں گی جس کے بارے میں امریکی صدر نے بات کی تھی۔

ایردوآن کے مطابق "انتہائی مثبت" ماحول میں ہونے والی بات چیت کے دوران ٹرمپ نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم ترکی کی سرحد پر "ایک سکیورٹی زون قائم کر دیں جس کا عرض 30 کلو میٹر تک ہو"۔

انقرہ کئی برس سے اس زون کے قیام کا مطالبہ کرتا آ رہا ہے جس کا مقصد کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو اپنی سرحد سے دور کرنا ہے۔

ترکی پیپلز پروٹیکشن تنظیم کو ایک دہشت گرد جماعت شمار کرتے ہوئے اسے کردستان ورکرز پارٹی کا حصہ قرار دیتا ہے جو تین دہائیوں سے ترکی کے خلاف مسلح بغاوت میں مصروف ہے۔