.

عراق نے ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے سے متعلق امریکی مطالبے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکا نے عراق سے ملیشیاؤں کو غیر مسلح کرنے اور ان کی سرگرمیاں منجمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ منگل کے روز بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ یہ خالصتا عراق کا معاملہ ہے۔

عبدالمہدی نے باور کرایا کہ "الحشد الشعبی ملیشیا کی تحلیل کے لیے مہلت کے حوالے سے باتیں درست نہیں ہیں ".

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق میں غیر ملکی فورسز کی تعداد میں اضافے کے حوالے سے مقامی میڈیا میں زیر گردش خبریں بے بنیاد ہیں۔

اس سے قبل ذرائع نے العربیہ کو بتایا تھا کہ امریکا نے 50 سے زیادہ ملیشیاؤں کے ناموں پر مشتمل فہرست عراق کے حوالے کی ہے اور ساتھ یہ مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام تنظیموں کو غیر مسلح کیا جائے اور ان کے اثاثوں کو منجمد کر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے جواب دینے کے لیے امریکی حکام سے کچھ وقت طلب کیا ہے۔

ان ملیشیاؤں میں نمایاں ترین بدر تنظیم کا عسکری ونگ جس کا سرغنہ ہادی العامری ہے، عراقی حزب اللہ بریگیڈز، ابو فضل العباس بریگیڈز اور عصائب اہل الحق جس کا سرغنہ قیس الخزعلی ہے ،،، شامل ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو رواں ماہ 9 جنوری کو عراق کے غیر اعلانیہ دورے میں بغداد پہنچے تھے۔ انہوں نے عراقی صدر برہم صالح، وزیراعظم عادل عبدالمہدی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد الحلبوسی، وزیر خارجہ محمد الحكيم کے علاوہ عراق میں تعینات امریکی فوجیوں سے بھی ملاقات کی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس دورے کا مقصد شام سے امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے عراق کو اطمینان دلانا اور اس بات سے خبردار کرنا تھا کہ ایران اب بھی خطے کی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔