.

لیبیا میں قطر نواز دہشت گرد کے چینل پر "اشتعال انگیزی" کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں مقامی میڈیا رپورٹوں کے مطابق "النبأ" نیوز چینل کو اگلے ماہ فروری کے آغاز سے نشریات پیش کرنے سے روک دیا جائے گا ،،، تاہم چینل نے اس خبر کی تردید کی ہے۔

مذکورہ چینل انسداد دہشت گردی کا مطالبہ کرنے والے چار عرب ممالک (سعودی عرب، امارات، بحرین اور مصر) کی جانب سے اعلان کردہ دہشت گرد عناصر کی فہرست میں شامل ہے۔ چینل کو قطر کی سپورٹ حاصل ہے اور یہ لیبیا کی فوج کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلانے کے سبب جانا جاتا ہے۔ چینل کا مالک لیبیائی سیاست دان اور عسکری شخصیت عبد الحكيم بلحاج ہے۔

واضح رہے کہ چینل کے دو اہم ترین اینکروں صفوان ابو سہمين اور ميس الريم القطرانی نے منگل کے روز چینل سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

ادھر بنغازی شہر میں عدالت نے لیبیا کے وکلاء اور کارکنان کی جانب سے عبدالحكيم بلحاج کے خلاف دائر مقدمے کی درخواست قبول کر لی۔ بلحاج پر الزام عائد ہے کہ وہ "النبأ" چینل اور اس کے پروگراموں کے ذریعے لیبیا کی فوج کے اہل کاروں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلا رہا ہے۔

دوحہ سے فنڈنگ حاصل کرنے والے "النبأ" چینل کو "فتنہ پھیلانے والا چینل" قرار دیا جاتا ہے۔ اس لیے کہ 2013 میں اپنے آغاز کے بعد سے یہ دہشت گرد جماعتوں اور شدت پسند مسلح ملیشیاؤں کی تصویر روشن کرنے میں مصروف ہے۔ اس کے مقابل یہ چینل لیبیا کی فوج کے زیر قیادت انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف اشتعال انگیزی پھیلاتا ہے۔

یہ چینل القاعدہ تنظیم سے وابستہ ایک عسکری کمانڈر عبدالحکیم بلحاج کی ملکیت ہے جو اپنے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے خوف سے ترکی فرار ہو چکا ہے۔ بلحاج پر لیبیا میں عمومی تنصیبات پر حملوں اور ملک میں دہشت گردی کے جرائم کے ارتکاب کے الزامات ہیں۔

بلحاج ماضی میں القاعدہ تنظیم اور الجماعۃ الليبيۃ المقاتلۃ میں شامل رہ چکا ہے۔ اس نے افغانسان کے جہاد میں شرکت کی اور کئی وہاں کئی سال گزارے۔ تاہم معمر قذافی کے سقوط کے بعد وہ ارب پتی شخصیت بن گیا اور اس کی ملکیت میں کئی کمپنیاں آ گئیں۔ ان میں ایک فضائی کمپنی بھی شامل ہے۔ یہ لیبیا کے اُن اہم ترین عسکری کمانڈروں میں سے ہے جن کو قطر کی فنڈنگ اور سپورٹ حاصل ہے۔ مسلح ملیشیا تشکیل دینے میں قطر نے اس کی معاونت کی۔ اس ملیشیا نے لیبیا کے عوام کے خلاف متعدد جرائم کا ارتکاب کیا۔ علاوہ ازیں قطر کے الجزیرہ چینل نے بھی اس کو میڈیا کی سپورٹ فراہم کی تا کہ وہ لیبیا میں شدت پسندی کے منصوبے کو فروغ دے سکے۔

عبدالحکیم بلحاج کو قطری مفادات کا دست راس اور لیبیا میں دوحہ کے منصوبے کے ذمے دار قرار دیا جاتا ہے۔