.

کیا شاھرودی کی وفات سے خامنہ ای کی جانشینی کی نئی جنگ شروع ہوگی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں دسمبر 2018ء کے آخر میں ایک سرکردہ مذہبی لیڈر آیت اللہ محمود ہاشمی شاھرودی انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کے بعد ملک کے سیاسی اور مقتدر حلقوں میں ایک نئی بحث جاری ہےکہ آیا شاھرودی کی وفات کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ممکنہ جانشین کون ہوگا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آیت اللہ ھاشمی شاہرودی تہران کے مقدر حلقے کے ایک نمایاں لیڈر تھے اور انہیں سپریم لیڈر کا مضبوط اور متوقع جانشین سمجھا جا رہا تھا۔ مگر وہ دسمبر کے آخر میں انتقال کرگئے جس کے بعد اب یہ بحث جاری ہے کہ ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کی صورت میں ان کا جانشین کون بنے گا۔خود خامنہ ای بھی پرسٹیٹ کینسر میں مبتلا ہیں اور کسی بھی وقت ان کی وفات کی خبر آسکتی ہے۔

امریکی اخبار"فارن پالیسی میگزین" کے مطابق ایران کے دیگر متناز مذہبی لیڈروں کے برعکس آیت اللہ ھاشمی شاہرودی کی ایران سے باہر کوئی زیادہ شہرت نہیں تھی۔ مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ تہران میں اقتدار کے بانی اور اسے مضبوط کرنے میں اہم کردار رکرہے تھے۔ ملک کے سیاسی اداروں کے ساتھ ان کے گہرے اور با رسوخ تعلقات قائم تھے۔ ان کے مقام ومرتبے کے اعتبار سے انہیں مرشد اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ کا ممکنہ جانشین قرار دیا جا رہا تھا مگر ان سے پہلے سے اس دنیا سے چلے گئے۔ شاھرودی کی وفات نے ایران میں سپریم لیڈر کی جانشینی کی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

شاھرودی کون تھے

آیت اللہ ہاشمی شاھرودی عراقی نژاد تھے جو سنہ 1948ء کو عراق میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین ایرانی تھے۔ ان کے والدین کا عراق میں اکٹھا ہونا حیران کن نہیں کیونکہ اس وقت ایران کے اہل تشیع مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے عراق کا سفر کرتے تھے۔ عراق میں پیدا ہونے والے دیگر ایرانی رہ نمائوں میں لاریجانی برادران بھی شامل ہیں۔ وہ دونوں‌بھی اس وقت ایران میں کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں۔ ایک عدلیہ کا سربراہ اور دوسرا گارڈین کونسل کا چیئرمین ہے۔
ہاشمی شاھرودی نے بھی نجف کی مذہبی درسگاہ سے تعلیم حاصل کی۔ ان کے شیعہ اساتذہ میں محمد باقر الصدر سر فہرست تھے۔ وہ اہل تشیع میں آیت اللہ روح اللہ خمینی سے درجے میں معمولی کم تھے۔ سنہ 1974ء کو انہیں عراق کی بعث پارٹی کی حکومت نے گرفتار کیا اور دوران حراست انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس دور میں عراق میں اہل تشیع کے مذہبی رہ نمائوں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا تھا۔

سنہ 1980ء میں عراق ۔ ایران جنگ شروع ہوئی تو شاھرودی نے عراق ہی میں سپریم انقلابی کونسل کی قیادت سنھبالی۔ ان کا شمار صدام حسین کے سرکردہ مخالفین میں ہوتا تھا۔ انہوں نے فیلق بدر کے نام سے ایک عسکری گروپ قائم کیا جو ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ مل کر عراقی فوج کے خلاف لڑتا۔

ایران میں آمد

سنہ 1989ء میں شاھرودی نے ایران آنے اور ملکی سیاست میں‌کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایران میں آمد کے بعد انہیں اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ وہ سنہ 1999ء سے 2009ء تک سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ ہے۔

اس کے علاوہ سنہ 1995ء کو انہیں دستوری کونسل کا رکن مقرر کیا گیا اور وہ اس عہدے پر اپنی وفات تک فائز رہے۔
اس کے علاوہ علامہ شاھرودی کو مذہبی لیڈروں پر مشتمل خبر گان کونسل ،گارڈین کونسل اور علی اکبر ھاشمی رفسنجانی کی وفات کے بعد سپریم لیڈر کے مشیر کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

خامنہ ای کا با اعتماد ساتھی

ایران میں اعلیٰ عہدوں پرتعیناتی کی وجہ سے آیت اللہ ہاشمی شاھرودی کا شمار آیت اللہ علی خامنہ ای کے مقرب اور قابل اعتماد ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ شاھرودی کی وفات کے بعد ان کی تعزیت کرتے ہوئے خامنہ ای نے کہا کہ شاھرودی اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک مخلص خادم تھے۔

ایرانی حکومت اور قوم ایک مخلص رہ نما سے محروم ہوگئی۔ شاہرودی کے سنہ 1999ء سے 2009ء تک جوڈیشل کونسل کی سربراہی کا عرصہ بدنامیوں سے عبارت ہے۔ وہ سابق صدر محمد خاتمی اور محمود احمدی نژاد کے ادروا میں جوڈیشل کونسل کے سربراہ رہے۔ ان پر ایران میں اصلاح پسندوں پرعرصہ حیات تنگ کرنے اور ان پر عدالتی گرفت مزید سخت کرنے کے اقدامات کا الزام عاید کیا گیا۔ شاھرودی نے سخت گیر اور بنیاد پرست ایرانیوں کی ترجمانی کی اور عدالتوں کے ذریعے اصلاح پسندوں کو دبایا گیا۔شاھرودی کے حکم پر اصلاح پسند رہ نمائوں کو گرفتار کیا جاتا اور ان کے اخبارات وجرائد سمیت دیگر ابلاغی اداروں پر پابندیاں عاید کی جاتیں۔

سنہ 2000ء میں ایران میں ہونے والی اجتماعی پھانسیوں کی براہ راست یا بالواسطہ طور پر شاھرودی کی سرپرستی کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔ انہیں سابق صدر محمود احمدی نژاد کا بھی وفادار سمجھاجاتا ہے۔

شاھرودی نے جوڈیشل کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے سعید مرتضوی نامی شخص کو تہران کا پراسیکیوٹر جنرل مقرر کیا جس پر زیرحراست ایرانی نژاد کینیڈین خاتون زھراء کاظمی کی عصمت ریزی اور قتل کا الزام عاید کیا جاتا تھا۔ اس علاوہ مسٹر مرتضوی نے ہنگاموں کے دوران مخالفین کو گرفتار کیا اور انہیں جنسی طورپر ہراساں کیا۔