.

یمن میں سرکاری فوج کے ہاتھوں حوثیوں کے 3 حملے پسپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ سرکاری فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب حوثی ملیشیا کے تین حملوں کو ناکام بنا دیا۔ یہ حملے الحدیدہ شہر کے جنوب اور مشرق کے علاوہ التحیتا ضلع کے پہاڑی علاقے میں کیے گئے تھے۔

ذرائع کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے شدید گولہ باری کرتے ہوئے الحدیدہ کے مشرق میں یمنی فوج کے ٹھکانوں میں دراندازی کی کوشش کی تاہم یمنی فوج نے تین گھنٹوں کی گھمسان کی لڑائی کے بعد اسے پسپا کر دیا۔ شہر کے جنوب میں الدریہمی کے محاذ پر باغیوں کے دوسرے حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔

التحیتا ضلع میں مشترکہ افواج حوثی ملیشیا کے آخری حملے کو روکنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اس کارروائی میں السویق اور جنوبی کھیتوں کے علاقے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران حوثیوں کا بھاری جانی اور مادی نقصان ہوا۔

ادھر عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر میں درجنوں راکٹ داغے۔ علاوہ ازیں شہر کے مشرق میں ایک تجارتی عمارت اور ایک انڈسٹریل کمپلیکس کو بھی کیٹوشیا راکٹوں سے نشانہ بنایا گیا۔

مقامی آبادی کے مطابق حوثی ملیشیا نے الحدیدہ شہر کے وسطی علاقے السلخانہ پر توپ کے گولے اور الزہور کے علاقے میں ایک ہسپتال کے نزدیک کیٹوشیا راکٹ داغے۔

مقامی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا الحدیدہ شہر کے وسط میں واقع الشعب پارک میں اپنے درجنوں مسلح جنگجوؤں کو اکٹھا کر رہی ہے۔ علاوہ ازیں دو ہوٹلوں کی چھتوں پر مزید نشانچیوں کو تعینات کر دیا گیا ہے جب کہ شمسان طبی مرکز کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ڈپو میں تبدیل کر دیا گیا۔

باغی ملیشیا نے بڑی تعداد میں اپنے مسلح ارکان کو الحدیدہ کے جنوب مغرب میں الجامعہ اور الربصہ کے علاقے میں تعینات کر دیا ہے۔ الحدیدہ یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق حوثی ملیشیا نے اپنے ہمنوا استادوں کو یہ ذمے داری سونپی ہے کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ کو بھرتی کر کے انہیں حوثی ملیشیا کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنے پر مجبور کریں۔