.

ترکی کے ساتھ مفاہمت کی امید رکھتے ہیں: سیرئین ڈیموکریٹک فورسز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل سیرئین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کا لہجہ دھیما پڑ گیا ہے اور ترکی کے حوالے سے نسبتا زیادہ نرمی کا اظہار سامنے آیا ہے۔

اس سے قبل العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے ایس ڈی ایف کے شریک سربراہ ریاض درار نے شام اور ترکی کی سرحد پر سیف زون میں ترکی کے کسی بھی وجود کو مسترد کرتے ہوئے اسے قبضے کے مترادف قرار دیا تھا۔

بدھ کی شام جاری بیان میں ایس ڈی ایف نے کہا ہے کہ وہ شام کے شمالی اور مشرقی حصوں میں ایک ’سیف زون‘ کے قیام کے لیے مطلوب سپورٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ علاوہ ازیں ایسے حل تک پہنچنے کی امید ظاہر کی گئی ہے جن سے سرحدی علاقوں کا امن واستحکام یقینی ہو جائے گا۔

بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ "ایس ڈی ایف کا مشن شام کے شمال اور شمال مشرق میں واقع علاقوں میں سب کو تحفظ فراہم کرنا ہے ،،، اور کسی روز بھی وہ کسی پڑوسی ملک بالخصوص ترکی کے لیے بیرونی خطرہ نہیں بنی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ انقرہ کے ساتھ ایسی مفاہمت عمل میں آ جائے گی جو ترکی کے ساتھ سرحدی علاقوں میں امن کو مستحکم بنا دے"۔

ایس ڈی ایف نے یہ بھی باور کرایا ہے کہ وہ شام کے شمال اور شمال مشرق میں سیف زون کی تشکیل کے لیے مطلوب سپورٹ اور مدد پیش کرے گی۔ اس میں اُن تمام نسلی گروہوں کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے جن کو نسل کشی کے خطرات کا سامنا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بدھ کے روز منبج شہر کے وسط میں ایک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 4 امریکی فوجیوں سمیت 19 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔