.

عرب اتحاد کو مطلوب حوثی فضائیہ کا سابق سربراہ خفیہ کارروائی میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ’’العربیہ‘‘ کے ذرائع نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ عرب اتحاد کی ایک انٹیلی جنس کارروائی میں حوثی ملیشیا کی جانب سے مقرر کیا جانے والا فضائیہ کا سابق کمانڈر بریگیڈیئر جنرل ابراہیم علی الشامی ہلاک ہو گیا ہے۔ الشامی کا عرب اتحاد کو مطلوب افراد کی فہرست میں 19 واں نمبر تھا۔

یمنی دارالحکومت صنعاء میں ذرائع نے پراسرار حالات میں الشامی کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

ذرائع کے مطابق الشامی کی لاش حوثیوں کی جانب سے سخت حفاظتی انتظامات میں صنعاء کے ایک ہسپتال پہنچائی گئی۔ وہ حوثی ملیشیا میں بیلسٹک میزائل داغنے اور جاسوس طیاروں کے ذریعے کی جانے والی ہلاکت خیز کارروائیوں کا نگران تھا۔

باخبر ذرائع نے بتایا کہ بریگیڈیئر جنرل الشامی کو چند ماہ قبل ایک غیرعلانیہ فیصلے کے ذریعے اس کے منصب سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اسے حوثی باغیوں کے سرغنے عبدالملک الحوثی کے براہ راست حکم پر نظر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اس نظر بندی کی وجوہات معلوم نہیں ہوسکیں۔

ذرائع کے مطابق الشامی کو غالبا دیگر حوثی قیادت کی جانب سے ختم کیا گیا ہے۔

یمن میں سرگرم عرب اتحاد نے الشامی کو 40 مطلوب حوثی باغی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہوا تھا۔ فہرست میں اس کا 19 واں نمبر تھا جب کہ اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی رقم کا اعلان کیا گیا۔