.

#لیبیا میں انارکی کا خاتمہ فوری انتخابات کے ذریعے ممکن ہے: سیف قذافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سابق سربراہ کرنل معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام نے طرابلس میں جاری مسلح جھڑپوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ حالیہ انارکی کو ختم کرنے کے لیے پارلیمانی اور صدارتی انتخابات کے انعقاد میں جلدی کی ضرورت ہے۔

سال 2011 میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیف الاسلام قذافی کی جانب سے ملک کی سکیورٹی اور سیاسی صورت حال پر یہ پہلا تبصرہ ہے۔

سیف الاسلام کے معاون اور ان کی سیاسی ٹیم کے رکن محمد القیلوشی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ ’’سیف الاسلام کا یہ مطالبہ ہے کہ لیبیا کے عوام کو موقع دیا جائے کہ وہ ایک ایسی حکومت اور قیادت منتخب کریں جو ریاستی اداروں کو متحد کرنے، انارکی اور شورش کو ختم کرنے اور تشدد اور لڑائی کو روکنے کی اہلیت رکھتی ہو۔‘‘

اس سلسلے میں القیلوشی نے لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ کے بیان کا حوالہ دیا۔ اس بیان میں سلامہ نے کہا تھا کہ "لیبیا کے عوام کے سامنے دو آپشن ہیں ،،، یا تو سیاسی عمل کو اختیار کریں اور یا پھر ایک نئی عسکری جنگ چھیڑ دیں"۔

غسان سلامہ نے میڈیا میں اپنے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ اس بات پر موافقت پائی جاتی ہے کہ لیبیا میں صدارتی انتخابات رواں سال کے اختتام سے قبل نہیں ہو سکتے۔

سیف الاسلام قذافی جون 2017 میں زنتان کی جیل سے رہا ہونے کے بعد سے نظروں سے اوجھل ہیں۔ وہ سرکاری طور پر انتخابات کے اجرا کی تاریخ کے تعین اور اندرونی سکیورٹی انتظامات کا انتظار کر رہے ہیں جس کے بعد وہ اعلانیہ طور پر منظر عام پر آ سکیں۔ اس دوران سیف الاسلام کی سیاسی ٹیم بڑے پیمانے پر ان کے انتخابی منصوبے کے سلسلے میں کام کر رہی ہے۔

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں 4 ماہ تک جاری رہنے والی جنگ بندی کے بعد بدھ کے روز مسلح ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں کا دائرہ وسیع ہو گیا۔ لیبیا کی وزارت صحت کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں اب تک 5 افراد ہلاک اور 25 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔