سوڈان میں احتجاج کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں حالیہ ہفتوں کےدوران ہونے والے حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز کمیشن کے ارکان نے صدر عمر البشیر کےسامنے اپنی ذمہ داری کا حلف اٹھایا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سوڈان میں احتجاجی مظاہروں کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی سنہ 1954ء کے وضع کردہ قانون کے مطابق عمل میں لائی گئی ہے۔ بدھ کے روز سوڈان کے چیف جسٹس عبدالمجید ادریس کی موجودگی میں کمیٹی کے ارکان نے حلف اٹھایا۔

"الشروق" نامی حکومت نواز ویب سائیٹ کے مطابق وزیر انصاف محمد احمد سالم نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ انکوائری کمیٹی میں متعدد وزیر مملکت، وفاقی حکومت کے گورنر،شعبہ اطلاعات، ٹیلی کام، وزارت داخلہ، انٹیلی ایجنسیوں اور پبلک پراسیکیوٹر کے عہدیداروں کو شامل کیاگیا ہے۔

یہ کمیٹی ملک میں ہونے والےپرتشدد احتجاجی مظاہروں، ان کی وجوہات اور ان کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کا بھی جائزہ لینے کے بعد پرتشدد مظاہروں کے ذمہ داروں کا بھی تعین کرے گی۔

وزیرانصاف کا کہنا تھا انکوائری کمیشن ہرطرح کے دبائو سے آزاد ہوگا اور وہ مکمل غیر جانب داری کئ ساتھ اپنی تحقیقات مکمل کرے گا۔

خیال رہے کہ سوڈان کے مختلف شہروں میں حالیہ ہفتوں کےدوران ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران کم سے کم 40 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

چند روز قبل صدر عمر البشیر نے ملک میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ احتجاج کے پیچھےبیرونی ہاتھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں