.

شام میں داعش کے آخری ٹھکانے کے خلاف کارروائی ،مزید 2 2 سو افراد بے گھر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے مشرقی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے آخری ٹھکانے کے خلاف شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف ) کی حتمی کارروائی کے نتیجے میں گذشتہ 24 گھنٹے میں دو ہزار سے زیادہ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق ان میں داعش کے دسیوں جنگجو بھی شامل ہیں۔

امریکا کی حمایت یافتہ فورسز نے دریائے فرات کے مشرق میں واقع علاقے میں داعش کے خلاف بدھ سے حتمی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔ انھوں نے اس علاقے میں محصور ہو کر رہ جانے والے شہریوں اور جنگجوؤں کو انخلاء کے لیے بسیں مہیا کی ہیں۔

رصدگاہ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں کل 22 سو افراد علاقے کو چھوڑ کر دوسرے مقامات کی جانب چلے گئے ہیں۔ان میں داعش کے 180 جنگجو بھی شامل ہیں۔ان میں قریباً 11 سو افراد بدھ کی دوپہر روانہ ہوئے تھے۔ان میں زیادہ تر خواتین ،بچے اور داعش کے 80 ارکان شامل تھے۔

رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ وہ شامی جمہوری فورسز کی جانب سے مہیا کردہ بسوں اور نجی کاروں میں سوار ہو کر جارہے تھے۔انھیں امریکا کے حمایت یافتہ اس گروپ کے زیر اہتمام کیمپوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔انھوں نے مزید بتایا کہ اس علاقے میں دسمبر کے بعد 20 ہزار سے زیادہ افراد اپنی جانیں بچانے کے لیے دوسرے شہروں اور علاقوں کی جانب چلے گئے ہیں۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ علاقے میں داعش کے خلاف فیصلہ کن لڑائی کے دوران میں گذشتہ چھے ماہ میں مجموعی طور پر قریباً 25 ہزار افراد تشدد سے بچنے کے لیے اپنا گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ گذشتہ جمعہ کو ایس ڈی ایف نے اس علاقے سے شہریوں کے انخلا کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد سے داعش کے 500 جنگجوؤں سمیت قریباً 5300 افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی جانب جا چکے ہیں۔قبل ازیں ہزاروں افراد پیدل ہی اپنی جانیں بچانے کے لیے دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے تھے۔

ایس ڈی ایف نے حالیہ ہفتوں کے دوران میں کئی ایک علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے لیکن داعش کا ابھی تک ایک گاؤں سوسہ پر کنٹرول برقرار ہے۔اب کرد اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل ملیشیا ان کے خلاف حتمی حملے کی تیاری کررہی ہے۔بدھ کے بعد سے امریکا کی قیادت میں اتحاد نے بھی داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے تیز کررکھے ہیں۔اسی روز شمالی شہر منبج میں ایک خودکش بم حملے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔2014ء میں داعش کے خلاف جنگی مہم کے آغاز کے بعد امریکا کا شام میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے جبکہ وہ اس ملک سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کی تیاری بھی کررہا ہے۔