پروٹوکول کے منافی ایرانی وزیر خارجہ کا عراقی قبائلی عمائدین سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایرانی وزیر خارجہ کے دورہ عراق کے دوران عراق کے قبائلی عمائدین سے خطاب پر عراق کے سیاسی اور عوامی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے جنوبی عراق کے دورے کے دوران قبائلی رہ نمائوں سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب کو سفارتی آداب اور پروٹوکول کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے۔

عراق کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ حید الملا نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ عراق کی تمام سیاسی جماعتیں تمام ممالک کے ساتھ تزویراتی تعلقات کی خواہاں ہیں مگر ایرانی وزیر خارجہ نےاپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔

انہوں‌نے مزید کہا کہ عراق کے دوسرے ممالک ساتھ تعلقات کی بنیاد باہمی احترام اور عراق کی خود مختاری پرہے مگر ایرانی وزیر خارجہ سفارتی منطق اور عراق کی خود مختاری کے اصولوں کے برعکس قبائلی رہ نمائوں سے ملاقات کی۔ اس طرح کی ملاقاتیں قبائل کو اپنے زیراثر لانے کی کوشش ہے۔

سابق ایرانی رکن پارلیمنٹ الملا نے وزیر اعظم عادل المہدی اور وزیر خارجہ محمد علی الحکیم پر زور دیا کہ وہ ایرانی وزیر خارجہ کے پروٹوکول کے منافی قبائلی رہ نمائوں سے خطاب کی وضاحت کریں۔

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ نے گذشتہ اتوار کو عراق کے بغداد اور اربیل شہروں کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وہاں پر قبائلی رہ نمائوں سےبھی ملاقاتیں کیں۔ اس دوران انہوں‌نے کربلا اور بغداد کے تاجروں سے بھی خطاب کیا۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی"ایسنا" کے مطابق کربلا میں جواد ظریف نے ایرانی قونصل خانے میں آنے والے عراقی قبائلی رہ نمائوں کے ساتھ گرم جوش ملاقات کی۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق کربلاء کے قبائل رہ نمائوں کے علاوہ شہر کی سرکردہ شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور سیاسی رہ نمائوں نے بھی وزیرخارجہ سے ملاقات کی۔

ایرانی خبر رساں ادارے نے ملاقات کو 'گرم جوش' قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی ملاقاتیں دونوں اقوام کے درمیان تعاون اور تعلقات کے فروغ میں معاون ثابت ہوں‌ گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں