.

ایرانی فوج کے عہدیدار شام میں اسرائیلی حملوں سے انکاری کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی امور سے متعلق ویب سائٹ "ایران انٹرنیشنل" نے جمعے کے روز عسکری اور تزویراتی تجزیہ کار حسین آرین کا ایک مضمون "جنرلوں کی خاموشی" شائع کیا ہے۔ مضمون میں ایرانی اور شامی حکومتوں کی جانب سے شام کی سرزمین پر اسرائیلی حملوں کے عدم تذکرے کے معمول پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

مضمون نگار کے مطابق اسرائیلی فوج نے جنوری 2018 سے براہ راست فضائی حملے کیے ہیں۔ مزید برآں اسرائیلی فضائیہ نے صرف 2018 میں شام کے اندر ایرانی فورسز کے ٹھکانوں پر تقریبا 2000 بم برسائے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کا بڑا حصہ غیر ملکی ذرائع اور میڈٰیا کے حوالے سے ان حملوں کی کوریج دیتا ہے۔

مضمون نگار نے باور کرایا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے اپنے ان حملوں کو پراسرار رکھنا اسرائیلی پالیسی میں دانستہ برتاؤ ہے۔ سال 2007 میں بھی شام کے نیوکلیئر ری ایکٹروں پر حملے کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے سرکاری طور پر شام میں حملوں کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔ ادھر بشار الاسد کی حکومت اپنی بڑائی اور ساکھ کو برقرار رکھنے کے واسطے یہ ظاہر کرتی کہ اس کی سزمین پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔

مضمون نگار نے مزید کہا کہ بعد ازاں یہ طریقہ اسرائیل کی دیگر کارروائیوں میں بھی اپنایا جانے لگا۔ ان میں شام میں حزب الله کے لیے اسلحہ لے جانے والے قافلے اور ایرانی فورسز کے ٹھکانے اور اڈوں کو نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بشار مخالف گروپوں کے خلاف جنگ میں ایرانی فورسز کو پہنچنے والے دھچکوں نے اسرائیل کو موقع فراہم کیا کہ وہ شام کی خانہ جنگی میں داخل ہوئے بغیر مؤثر حملے کرے۔

مضمون کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ اسرائیلی فوج نے بارہا شام میں ایرانی فورسز اور تہران کی ہمنوا ملیشیاؤں کو حملوں کا نشانہ بنایا۔ بعض اسرائیلی مبصرین نے شام میں ایرانی اہداف کے خلاف جاری فضائی حملوں کو اسرائیل میں آئندہ انتخابی مہم یا شام سے امریکی انخلا کے ساتھ نتھی کیا ہے۔ تل ابیب حکام نے مذکورہ انخلا کے اسرائیل کی سکیورٹی پر کسی قسم کے اثرات مرتب کرنے کی تردید کی ہے۔

مضمون نگار کہتے ہیں کہ اسرائیل اپنے کئی حملوں کی تصدیق کر کے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ پاسداران انقلاب اور القدس فورس کی قیادت اور عہدے داران اپنے اسرائیل معاند نعروں اور بیانات کے باوجود نہ صرف اسرائیلی حملوں کا طاقت سے جواب دینے میں ناکام رہے بلکہ یقینا وہ ان حملوں کو چھپاتے ہیں۔

حسین آرین کے مطابق شام میں اسرائیلی حملے روس کی نظروں سے اوجھل نہیں ہیں تاہم اس نے اسرائیلی فوج کو ایرانی فورسز پر حملوں کی پوری آزادی دے رکھی ہے۔

اگرچہ روس کے ایران کے ساتھ مشترکہ نکات ہیں تاہم آخر کار ماسکو بھی شام سے ایرانی فورسز کے مکمل انخلا کا طالب ہے اور اس سلسلے میں ایران کے ساتھ رابطہ کاری انجام دے رہا ہے۔

مضمون کے اختتام پر حسین آرین کہتے ہیں کہ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ایران کے حوالے سے روس کی کارکردگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماسکو ضرورت کے وقت اپنے تزویراتی اور قومی مفادات کے واسطے ایران کا کارڈ استعمال کرتا ہے۔