.

ایرانی پولیس نے 2018ء کے دوران 30 احتجاجی مظاہرین قتل کیے: انسانی حقوق تنظیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2018ء کے دوران ایرانی پولیس نے احتجاج کرنے والے 30 شہری موت کے گھاٹ اتار دیے۔

جمعرات کے روز جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت نے دوران حراست تشدد سے ہلاک کیے گئے مظاہرین کے حوالے سے کسی قسم کی تحقیقات نہیں کیں اور نہ ہی مظاہرین کے خلاف سیکیورٹی اداروں کے طاقت کے استعمال کا نوٹس لیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت شہریوں کے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے وکلا، انسانی حقوق کے مندوبین اور خواتین کارکنوں کو حراست میں لینے کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

'ایچ آر ڈبلیو' کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے مظاہروں میں حصہ لینے والے شہریوں کے خلاف وحشیانہ کریک‌ ڈائون کیا گیا اور مظاہرین کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے خلاف نام نہاد فوجی عدالتوں میں سنگین جرائم کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔

ملک میں جاری ابتر معاشی صورت حال اور اپنے معاشی حقوق کے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرنے کو جرم قرار دیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس 24 جنوری کو ایرانی انٹیلی جنس اداروں نے ماحولیات کے لیے کام کرنے والے 8 کارکنوں کو حراست میں لیا گیا اور ان کے خلاف عدالتوں میں جعلی بنیادوں پر مقدمات چلائے گئے۔ ان میں سے چار کو سزائے موت سنائی گئی۔ سزائے موت پانے والے ماحولیاتی کارکنوں میں پروفیسر کاووس سید امامی بھی شامل ہیں جنہیں بعد ازاں دوران حراست اذیتیں‌دے کر قتل ردیا گیا۔ ایرانی جلادوں کو بچانے کے لیے کاووس امامی کی خود کشی کا دعویٰ کیا گیا۔