.

حوثیوں کی جنگ کی فنڈنگ ایرانی ایندھن کی فروخت سے ہو رہی ہے: اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ میں ماہرین کی کمیٹی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران میں بندرگاہوں سے ایندھن کی ترسیل کی آمدنی یمن میں آئینی حکومت کے خلاف حوثی باغیوں کی کارروائیوں کی فنڈنگ میں کام آ رہی ہے۔

توقع ہے کہ مذکورہ رپورٹ کے نتائج سے ایک بار پھر حوثی باغیوں کے لیے ایران کی سپورٹ کے حوالے سے سوالات جنم لیں گے۔

سال 2018 کی حتمی رپورٹ میں کمیٹی نے کہا ہے کہ اس نے بعض ایسی کمپنیوں کا تعین کیا ہے جو یمن یا بیرون ملک میں رہتے ہوئے تیل کے عطیات کو چھپانے کے لئے جعلی دستاویزات کا استعمال کر کے منظر عام پر رہتی ہیں۔

سلامتی کونسل کو ارسال کی گئی 85 صفحات کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ایندھن کی فروخت سے حاصل شدہ آمدن کو حوثیوں کی جنگ کی فنڈنگ میں استعمال کیا گیا۔

کمیٹی کے مطابق ایران میں بندرگاہوں سے ایندھن کی شپمنٹ جعلی دستاویزات کے تحت عمل میں آئی تاکہ اقوام متحدہ کی جانب سے سامان کی تلاشی سے بچا جا سکے۔

کمیٹی کی ایک سابقہ رپورٹ میں ماہرین نے بتایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے ماہانہ 3 کروڑ ڈالر مالیت کے تیل کے عطیات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

ایران بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ حوثیوں کو عسکری سپورٹ پیش کر رہا ہے۔