فرانس کا شام میں داعش کے خلاف عسکری طور پر سرگرم رہنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فرانس نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ بین الاقوامی اتحاد میں شامل رہ کر شام میں داعش تنظیم کے انسداد کے سلسلے میں اپنی عسکری ذمے داریوں کو پورا کرتا رہے گا۔

داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کے ضمن میں فرانسیسی عسکری اہلکاروں کی تعداد 1200 سے زیادہ نہیں ہے۔ یہ اہل کار شام اور عراق میں فضائی کارروائیاں اور خصوصی زمینی آپریشنز میں مصروف عمل ہیں۔ علاوزہ ازیں وہ عراقی فوج کی تربیت اورتیاری میں بھی مصروف ہیں۔

فرانسیسی صدر عمانویل ماکروں اور وزارت خارجہ کی ترجمان کے علاوہ فرانس میں دائیں بازو کے سیاست دانوں کو بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے شام سے امریکی افواج کے انخلا میں جلد بازی کو کیا نام دیں۔

گزشتہ ماہ ٹرمپ کی جانب سے شام سے انخلا کے اعلان کے بعد ماکروں نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ فرانسیسی صدر اپنے امریکی ہم منصب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "حلیف کو اپنے دیگر شراکت داروں کو اعتماد میں لے کر ان کے ساتھ رابطہ کاری کو یقینی بنانا چاہیے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں