.

تاریخ کے جھروکوں سے:فلسطین کے لیے لڑنے والی پہلی سعودی دفاعی فوج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب خطے کے عسکری تاریخ کا ایک اہم ترین باب سعودی عرب کی فلسطین کے لیے تشکیل دی جانے والی دفاعی فوج ہے۔ سعودی عرب نے سنہ 1948ء کے اوائل میں ایک فوج تشکیل دی جس نے دوسری عرب افواج کےساتھ مل کر فلسطین کے دفاع کی جنگ لڑی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تاریخی دستاویزات سے فلسطینیوں کے لیے جنگ لڑنے والے سعودی سپاہیوں اور رضاکاروں کے ناموں تک کی تفصیلات ملتی ہیں۔ انہوں‌نے اپنے خون سےتحریک آزادی فلسطین کی آبیاری کی اور جرات وبہادری، جانثاری اور ہمت کی لازوال قربانیاں دیں۔

فلسطین کے نیشنل انفارمیشن سینٹر کے ریکارڈ سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ان سعودی سپاہیوں کے ناموں کی تفصیلات ملتی ہیں جنہوں‌نے ارض فلسطین کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور آج وہ سرزمین فلسطین میں آسودہ خاک ہیں۔

تجزیہ نگار محمد بن ناصر الاسمری نے اپنی کتاب'سنہ 1948ء کی فلسطین جنگ' میں سعودی عرب کی فوج کے ساہیوں کی تفصیلات پر روشنی ڈالی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے لشکر نے مصری فوج کے ساتھ شانہ بہ شانہ فلسطین کی جنگ میں‌حصہ لیا۔ام القریٰ کے جنگی نامہ نگار شکیب الاموی جو اس جنگ میں‌شریک تھے نقل کرتے ہیں کہ 25 جون 1948ء کو غزہ سے شامل میں 9 کلو میٹر دور بیت لحم کے مقام پر سعوی فوج نے صہیونیوں کے خلاف پہلا معرکہ لڑا۔ سعودی لشکر کا 'بیرون ازحاق' یہودی کالونی کالونی کے قریب مصری فوج کے ہمراہ یہودیوں کے خلاف گھمسان کا رن پڑا۔ اس وقت سعودی لشکری کی قیادت سعید الکردی نامی ایک فوجی کررہےتھے۔

محقق نے ان معرکوں کے نام اور ان کی دیگر تفصیلات بھی شامل کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ سعودی فوج اور صہیونیوں کے درمیان لڑے جانے والے معرکوں میں دیرسنید، اسدود، نجبا، المجدل، عراق سویدان، الحلیقات، بیروت اسحاق، کراتیا، بیت طیما، بیت حانون، بیت لاھیا، غزہ، رفح، العسلوج، تبہ الخی، علی المطار اور الشیخ نوران کے معرکے شامل ہیں۔

اسی حوالے سے فلسطین میں مصری فوج سربراہ میجر جنرل احمد علی المواوی نے لکھا کہ فلسطین کی جنگ میں سعودی عرب کی فوج اور سپاہیوں نے جان نثاری اور بہادری کی لازوال مثالیں رقم کیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب واحد عرب ملک تھا جس کی سپاہ نے ہمارے ساتھ باقاعدہ فلسطین کی جنگ میں‌حصہ لیا۔ سعودی سپاہی مصری فوج کی وفاداری میں فلسطینیوں کے حق میں لڑتے رہے۔ انہوں نے مصری بریگیڈ کی طرف سے وضع کردہ پروٹوکول کی معمولی خلاف ورزی تک نہیں کی۔ اس دوران سعودی عرب کی طرف سے چھ نئے فوجی دستے اور اسلحہ بھی محاذ جنگ پر پہنچایا۔

الاسمری کا کہنا ہے کہ انہوں‌نے تحقیق کے دوران مصری دستاویزات کے ریکارڈ سے مصدقہ معلومات حاصل کیں بلکہ محاذ جنگ میں حصہ لینے لیے کئی فوجیوں کے بیانات بھی قلم بند کیے۔

کتاب سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق کرنل سعید الکردی کی کمان میں 3200 سعودی فوجیوں اور سپاہیوں نے فلسطین کی جنگ میں حصہ لیا۔ الکردی کےساتھ عبداللہ بن نامی ان کے نائب تھے جب کہ شہزادہ منصور بن عبدالعزیز اور ان کے سیکرٹری شہزادہ مشعل بن عبدالعزیز بھی براہ راست فلسطین کےلیےلڑی جانے والی جنگ میں شریک ہوئے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ حسین العساف کے مطابق سنہ 1948ء کے جہاد فلسطین میں حصہ لینے والے سعودی سپاہیوں میں سے کئی لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ سعودی عرب نے عرب لیگ کی اپیل پر فلسطین کی جنگ میں شمولیت اختیار کی تھی فلسطین کے لیے تشکیل دی جانے والی فوج کے لیے "دفاعی فورس" کا نام دیاگیا تھا۔ العساف کے مطابق اس فوج میں 500 رضاکار شامل تھے۔

سعودیوں کی قربانیوں کی تحسین

فلسطینی قوم سعودی شہریوں کی جانب سے دی جانے والی قربانیوں سے نابلد ہیں اور نہ ہی فلسطینی کبھی سعودیوں کے قربانیوں کو فراموش کریں گے۔ دسمبر 2017ء کو سعودی عرب میں فلسطینی سفیر باسم آلاغا نے 92 سالہ سعودی شہری ابراہیم بن ثواب العتیبی سے ان کے گھرمیں ملاقات کی۔ التعیبی فلسطین جنگ میں ایک سپاہی کے طورپر شرکت کرچکے ہیں۔ العتیبی جو الریاض کے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز اسپتال میں زیرعلاج تھے نے ان تاریخی یادوں سے پردہ اٹھایا جو وہ فلسطین کی جنگ کی صورت میں آج تک اپنے دل میں بسائے ہوئے ہیں۔ فلسطینی سفیر نے صدر محمود عباس کی طرف سے العتیبی کے لیے نیک تمنائوں کا پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر فلسطینی سفیر باسم الاغا نے کہا کہ فلسطینی قیادت اور پوری قوم سعودی عرب کے سپاہیوں کی فلسطین کے لیے دی جانے والی قربانیوں کوہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔

العتیبی نے کہا کہ فلسطین کی جنگ کے دوران انہوں‌نے ہزاروں کی تعداد میں فلسطینیوں کو دیکھا اوران کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ فلسطینی سفیر نے کئی دوسرے سپاہیوں اور سابقہ فوجیوں جن میں ں حسین بن ناصر العساف، رقیان البقمی، صالح العقلمہ، حامد بن دغلیب الحربی اور حامد ابو ربعہ الحربی آج بھی شامل ہیں سے ملاقاتیں کیں۔

اکتوبر 2016ء کو سفیر الآغا نے جنوب مغربی سعودی عرب کے ابھا شہر کا دورہ کیا جہاں انہوں نے عبداللہ بن ظفیر السرحانی کے خاندان سے تعزیت کی۔ السرحانی 1948ء کی جنگ میں فلسطینیوں کے ہمراہ لڑائی میں شامل رہ چکے تھے۔
سنہ 2012ء کو فلسطینی سفارت خانے کی طرف سے میجر جنرل ابراہیم المالک، میجر جنرل احمد المنصور، بریگیڈیئر معلی اور عبداللہ الخزی کی خدمات کو فلسطین کے لیے جنگ لڑنے کی خدمات کے اعتراف میں خصوصی تکریم سے نوازا۔ بعد ازاں اول الذکر وفات پاگئے تھے۔