.

عرب اقتصادی کانفرنس : لبنانی صدر کا شامی مہاجرین کی محفوظ واپسی پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے صدر میشال عون نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ شامی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے ہر ممکن کوششیں کریں۔ انھوں نے کہا ہے کہ لبنان شام میں جاری بحران کا کوئی سیاسی حل برآمد نہ ہونے کے باوجود مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے اقدام تجویز پیش کرے گا۔

وہ اتوار کو بیروت میں عرب اقتصادی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ’’ میں تعمیرِ نو اقدام کی تجویز پیش کرتا ہو ں ۔اس کے تحت ایک عرب بنک قائم کیا جائے جو متاثرہ افراد کی مدد کرے گا‘‘۔

صدر میشال نے تمام عرب جماعتوں کو لبنان آنے کی دعوت دی ہے تاکہ عرب بنک کی تجویز پر غور کیا جاسکے ۔انھوں نے کہا کہ لبنان کو جنگوں اور دہشت گردی کی بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔

شام میں 2011ء میں خانہ جنگی اور پھر حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے دس لاکھ سے زیادہ افراد اپنا گھربار چھوڑ کر لبنان چلے گئے تھے اور ان میں زیادہ تر خیمہ بستیوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہے ہیں ۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ابھی شامی مہاجرین کی وطن واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

صدر عون نے کہا کہ ’’ لبنان عالمی برادری پرشامی مہاجرین کی محفوظ واپسی کے لیے تمام ممکن کوششوں کی ضرورت پر زوردیتا ہے اور اس کو سیاسی حل سے مشروط نہ کیا جائے‘‘۔ان کے علاوہ دوسرے لبنانی سیاست دان بھی شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ کنٹرول کے بعد مہاجرین پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اب اپنے وطن کو لوٹ جائیں ۔

لبنان کی ایران کی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا حزب اللہ اور اس کے صدر میشال عون سمیت اتحادی شامی حکومت کے ساتھ سیاسی اور سفارتی تعلقات بحال کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں جبکہ دوسرے سیاست دان اس کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کو مہاجرین کی واپسی کے عمل کی نگرانی کرنی چاہیے۔

بیروت میں عرب اقتصادی کانفرنس سے قبل عرب لیگ کے رکن ممالک کے درمیان شام کی رکنیت کی بحالی کے حوالے سے بھی اختلاف رہا ہے ۔بعض ممالک اس کی رکنیت کی بحالی کی حمایت کررہے ہیں۔ واضح رہے کہ آٹھ سال قبل صدر بشارالاسد کی حکومت کے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد عرب لیگ میں شام کی رُکنیت معطل کردی گئی تھی۔