.

"ناکام دن" میں روحانی غائب اور احمدی نژاد کی "فتح" کی علامت!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کے روز ایران کی گارڈین کونسل کا دوسرا اجلاس صادق لاریجانی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ اجلاس کا ایجنڈا ایران کی انسداد منی لانڈرنگ معاہدے'پالیرمو' میں ایران کی شمولیت پر غورکرنا تھا۔

ایرانی خبر رساں ادارے "ارنا" کے مطابق کونسل ہفتے کے روز ہونےوالے اجلاس میں 'پارلیرمو کنونشن' میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔

گارڈین کونسل کا اجلاس اس وقت زیادہ تنازع کا شکار ہوا جب آخری دونوں سیشنز کی صدارت صادق لاری جانی نے کی جب کہ صر حسن روحانی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ التبہ ان کی جگہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف جو کونسل کے رکن نہیں وزیراعظم کے نائب کی حیثیت سے شرکت کی۔

خبر رساں ایجنسی 'ایسنا' کے مطابق حسن روحانی نے اجلاس میں اس لیے شرکت نہیں کی کیونکہ کونسل ان سے منی لانڈرنگ اور پالیرمو معاہدے کے حوالے سے رپورٹ اور ان کا موقف نہیں سننا چاہتی۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس میں صدر حسن روحانی کی معاون خصوصی برائے قانون لعیا جنیدی اور ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کی شرکت بھی متنازع سمجھی جاتی ہے۔

اجلاس میں سابق صدر محمود احمدی نژاد کی شرکت پر حاضرین کو سخت اعتراض تھا۔ اصلاح پسندوں اور بنیاد پرستوں میں سے کسی نے بھی نہ تو احمدی نژاد کی شرکت کو اچھا سمجھا اور نہ ہی اجلاس کی صدارت کے لیے صادق لاری جانی کو قبول کیا۔

ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی تصاویر میں احمدی نژاد کو دو انگلیوں کے ساتھ فتح کا نشانہ بنائے دیکھا جاسکتا ہے۔ احمدی نژاد یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے وہ اجلاس میں اپنے تمام سیاسی حریفوں کی موجودگی میں پوری قوت کے ساتھ شریک ہیں۔ قومی ایشوز کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں وہ غیر حاضرنہیں رہے ہیں۔

ادھر ایک دوسرے سیاق میں کونسل کے رکن احمد توکلی نے ایک بیان میں کہا کہ گارڈین کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوگا جس میں 'پالیرمو' معاہدے میں ایران کی شمولیت کے حوالے سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔