.

ایران کو اسرائیل کو دھمکیاں دینے کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صہیونی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج نے شام میں ایران کے قائم کردہ فوجی ٹھکانوں کو سوموار کے روز فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اس کو اسرائیل کو تباہ کرنے کی دھمکیوں کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ ’’ ہم ایران اور ایرانی جارحیت میں مددگار شامی فورسز کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ہم ہر اس شخص یا ملک کو نشانہ بنائیں گے جو ہمیں نقصان پہنچائے گا اور جو کوئی ہمیں صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دے گا،اس کو اس کا مکمل خمیازہ بھگتنا پڑے گا‘‘۔

قبل ازیں ایرانی فضائیہ کے کمانڈر بریگیڈئیر عزیز نصیر زادے نے ایک تندوتیز بیان میں کہا تھا کہ ’’ اسرائیل کا روئے زمین سے وجود مٹا دیا جائے گا‘‘۔ان کا یہ بیان ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے تحت ویب سائٹ ینگ جرنلسٹ کلب نے جاری کیا ہے۔

نصیر زادے نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’’نوجوانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے اور وہ صہیونی رجیم کے ساتھ لڑائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ہماری اگلی نسل کو جو چیز لازمی طور پر سیکھنی چاہیے ، وہ یہ کہ انھیں اسرائیل کو تباہ کرنے کا عزم کرنا ہوگا‘‘۔

انھوں نے یہ بیان اسرائیلی فوج کے شام میں فضائی حملے کے ردعمل میں جاری کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شام میں ایران کی القدس فورس کے اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور اس نے شامی فورسز کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس کے ردعمل میں اسرائیلی علاقے یا اس کی فورسز پر حملوں سے گریز کریں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق اسرائیلی فوج کے فضائی حملے اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل گرنے سے دو شامیوں سمیت گیارہ جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔