.

عراقی گورکن کی "ميت" کے ساتھ سیلفی نے تنازع کھڑا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے صوبے نجف میں مشہور گورکن "علی العَميہ" کی ایک نوجوان کی میت کے ساتھ سیلفی نے ملک میں ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ اس حوالے سے عوامی اور سرکاری ردود عمل سامنے آ رہے ہیں اور خاص طور پر ان "تدفین کرنے والوں" پر میتوں کی بے حرمتی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں نجف کے لوگوں کے وکیل کی جانب سے دو روز قبل العمیہ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے واسطے درخواست دائر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ العمیہ گورکن فیس بک پر اپنی مزاحیہ تصاویر اور وڈیوز کے حوالے سے مشہور ہے۔

نجف صوبے کے استغاثہ کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ "میت کے ساتھ سیلفی لینا" مردے کی بے حرمتی اور اہانت کے زمرے میں آتا ہے۔ علاوزہ ازیں العمیہ کو نا اہل قرار دے کر اس کو مردوں کی تدفین کے لیے دی گئی اجازت بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب علی العمیہ نے مذکورہ تصویر اور اس کی بنیاد پر دائر مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے اتوار کے روز اپنی فیس بک پوسٹ میں بتایا کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص مردہ نہیں ہے اور یہ تصویر ایک سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ العمیہ نے اپنے خلاف دعوی دائر کرنے والوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اس کا روزگار ختم کروانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ علی العمیہ عراق میں وہ پہلا گورکن ہے جس نے اپنے باپ دادا سے ملنے والے پیشے کو فروغ دینے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کیا۔

فیس بک پر العمیہ کے صفحے کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد فالو کر رہی ہے۔