.

اردن نے بحیرہ احمر کے نزدیک اسرائیل کے نئے ہوائی اڈے کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن نے بحیرہ احمر کے نزدیک اسرائیل کی جانب سے نیا ہوائی اڈا کھولنے کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ دونوں ممالک کی سرحد کے نزدیک اس ہوائی اڈے سے اردن کی فضائی حدود کی خلاف ورزی ہوگی اور اس کی علاقائی خود مختاری خطرے سے دوچار رہے گی ۔

اردن کے سرکاری میڈیا کے مطابق سول ایوی ایشن ریگولیٹری کمیشن کے سربراہ ہیثم مستو نے کہا ہے کہ ’’ اردن اسرائیلی ہوائی اڈے کی موجودہ جگہ پر تعمیر کو مسترد کرتا ہے۔یہ ہوائی اڈا دوسرے ملکوں کی فضائی حدود اور علاقائی خود مختاری کے احترام سے متعلق بین الاقوامی معیارات کی صریح خلاف ورزی کا عکاس ہے‘‘۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوموار کو رامون ائیرپورٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے ۔اسرائیلی حکام کا موقف ہے کہ اس سے صہیونی ریاست میں سیاحت کو فروغ ملے گا اور یہ تل ابیب کے بن گورین ہوائی اڈے کے متبادل ہنگامی طور پر استعمال کیا جاسکے گا۔

ابتدائی طور پر اس ہوائی اڈے سے اسرائیلی فضائی کمپنیاں صرف اندرون ملک ہی پروازیں چلائیں گی اور ابھی وہاں سے بین الاقوامی پروازیں کے آغاز کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔

اردن نے 2013ء میں اس اسرائیلی ہوائی اڈے کی تعمیر کے آغاز کے وقت بھی اس کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کی تھی۔یہ ہوائی اڈا بحیرہ احمر کے کنارے واقع اردن کے شہر عقبہ کے شاہ حسین بین الاقوامی ائیرپورٹ کے بالکل نزدیک سرحد پار واقع ہے۔

ہیثم مستو کا کہنا تھا کہ اردن نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کو اردن کے اس ہوائی اڈے پر سخت اعتراض کے بارے میں آگاہ کردیا ہے اور تنظیم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے بین الاقوامی معیارات کی پاسداری کرانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن اسرائیل کی سول ایوی ایشن اتھارٹی سے رابطے میں ہے اور اس نے اسرائیلی حکام کو مطلع کردیا ہے کہ اس ہوائی اڈے کو تمام تصفیہ طلب امور طے ہونے تک یک طرفہ طور پر چالو نہ کیا جائے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ’’ اردن اپنے مفادات کے دفاع اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام آپشنز کو بروئے کار لانے کا حق محفوظ رکھتا ہے‘‘۔