.

کریش ایرانی طیارے میں القدس یونٹ کی عبرانی مترجم کون تھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ سوموار کو ایران کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ ایران کے سرکاری موقف کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ وسط ایشیائی ریاست قرغیزستان سے منجمد گوشت کے کر تہران آ رہا تھا۔

دوسری جانب ایرانی آن پورٹلز نے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے حوالے سے بتایا کہ اس 16 افراد سوار تھے اور وہ سب ایرانی فوجی تھے۔ مرنے والوں یں بعض انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار بھی شامل تھے۔

تاہم ایرانی حکومت کی طرف سے ان تمام سوالات پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ طیارے میں مارے جانے والے افراد کی شناخت ظاہر نہیں‌ کی گئی۔

ایران کی ایک مقامی ویب سائٹ "ایران بریفنگ" نے انکشاف کیا کہ طیارے میں ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون بھی شامل تھیں جو 'پاسداران انقلاب کی سمندر پار عسکری کارروائیوں کے نگران القدس یونٹ کی مترجم تھیں۔ وہ القدس یونٹ کی قیادت کے لئے عبرانی سے اور فارسی سے عبرانی میں ترجمہ کی خدمت سرانجام دیتی تھیں۔

"ایران بریفنگ" کے مطابق بوئنگ 707 پر قرغیزستان سے لایا گیا گوشت لادا گیا تھا تاہم طیارہ البرز کے فتح ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے حادثے کا شکار ہوا۔

ایرانی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طیارے کے حادثے کے بعد فضائیہ کی طرف سے واضح جواب نہیں دیا گیا جس پر کئی قسم کے شکوک وشبہات سامنے آ رہے ہیں۔ ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق طیارے میں ہلاک ہونے والی خاتون کی شناخت مریم زراعی نژاد کے نام سے کی گئی ہے۔ وہ فضائی میزبان نہیں بلکہ القدس یونٹ سے وابستہ مترجم تھیں جو عبرانی سے فارسی اور فارسی سے عبرانی میں ترجمہ کی ذمہ داری ادا کرتی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق مریم زراعی نژاد حادثے کا شکار ہونے والے 15 مسافروں میں شامل تھیں۔ اس کی لاش آبائی علاقے ھشت جرد بھجوائی گئی جہاں اسے سپرد خاک کیا گیا۔