.

عراق میں ایران نواز ملیشیا کی اسرائیل کو دھمکی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کی جانب سے پہلے رد عمل میں عصائب اہل الحق ملیشیا کے سیاسی ونگ "صادقون نے اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے شام میں داخل ہونے کی دھمکی دی ہے۔

صادقون گروپ سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ حسن سالم نے پیر کے روز کہا کہ شام میں اسرائیل کے بار بار حملوں کے سامنے عراق خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔ سالم نے واضح کیا کہ عرب لیگ کی کسی قرار داد کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ شام میں اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کے قائم کیے گئے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے ایران یا اس کی ہمنوا فورسز اور ملیشیاؤں کی جانب سے اسرائیلی اہداف پر کسی بھی حملے کے نتائج سے خبردار کیا۔

عراقی ملیشیا کی قیادت کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ ایرانی فضائیہ کے سربراہ بریگیڈیئر جنل عزیز نصیر زادہ اپنے طور پر اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا ملک اسرائیل کے ساتھ فیصلہ کن معرکے کے لیے تیار ہے۔ نصیر زادہ کے مطابق اس معرکے کا نتیجہ اسرائیل کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔

ادھر بینکنگ سیکٹر کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مسلح گروپوں کے متعدد سرغنوں نے عراقی بینکوں سے اپنی مالی رقوم کو نکال لیا ہے۔ مذکورہ ذرئاع کے مطابق چار عراقی بینکوں سے مالی رقوم کا بڑا حجم نکالا گیا ہے تاہم رقم کا تعین نہیں کیا گیا۔ البتہ یہ واضح ہے کہ مالی رقوم کا نکالا جانا اسرائیلی دھمکیوں کے ساتھ ہی عمل میں آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ایران کے زیر انتظام اُن ملیشیاؤں کے مراکز پر کاری ضرب لگائی جائے گی جو شام کے ذریعے اسرائیل کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

اس سے قبل باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ اسرائیل نے عراق کے اندر نشانہ بنانے کے لیے اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ یہ مقامات اور ٹھکانے ایران کے عسکری مقاصد کے واسطے استعمال ہو رہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ پیش رفت تل ابیب کو اس بات کا یقین ہو جانے کے بعد سامنے آئی ہے کہ تمام تر سفارتی اور سیاسی دباؤ کے باوجود تہران ہر صورت شام میں عسکری طور پر پاؤں جمانے کے لیے ہتھیاروں کی منتقلی کے درپے ہے۔