.

عراق کی سب سے بڑی بیجی آئل ریفائنری کے ساتھ کیا ہوا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تین سال قبل عراقی فوج نے صلاح الدین گورنری کے نواحی علاقے بیجی کو باغیوں سے آزاد کرایا مگربیجی آئل ریفائنری کے آلات کی گم شدگی کا معاملہ ابھی تک حل طلب ہے۔ ریفائنری کا سامان اور آلات کس نے چوری کیے؟ اس حوالے سے عراق کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر بحث جاری ہے۔ بعض سیاسی حلقے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی پر بیجی آئل ریفائنری کا سامان چوری کرنے کا الزام عاید کرتے ہیں۔

عراق کی وزارت پٹرولیم کے انسپکٹر جنرل حمدان عویجل راشد نے کہا کہ بیجی آئل ریفائنری اور اس کے سامان کی چوری مجرمانہ اقدام اور طے شدہ منصوبہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ جن کی شناخت ظاہر نہیں‌کی گئی وہ آئل ریفائنری کے سامان کی فروخت کی تیاری میں ملوث پائےگئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیجی آئل ریفائنری کو طے شدہ منصوبے کے تحت تخریب کاری اور توڑپھوڑ کا نشانہ بنایا گیا اور داعش کی طرف سے توڑپھوڑ کی گئی۔

آئل ریفائنری کی داعش سے آزادی

عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری صلاح الدین گورنری کے شمال مشرق میں واقع ہے اور اسے عراق کی سب سے بڑی آئل ریفائنری قرار دیاجاتا ہے۔ اس آئل ریفائنری سے یومیہ 310،000 بیرل تیل صاف کرنے کے بعد سپلائی کیا جاتا۔ا گست سنہ 2014ء کو داعش نے اس آئل ریفائنری پرقبضہ کرلیا۔

بیجی آئل ریفائنری پر قبضے کی جنگ ایک سال سے زاید عرصے تک جاری رہی۔ ریفائنری کو داعش سے چھڑانے کے لیے مقامی پولیس، انسداد دہشت گردی فورس اور عالمی اتحادی فوج نے مل کر کارروائی جاری رکھی۔ بالآخر اکتوبر 2015ءکو اس ریفائنری کو داعش سے آزاد کرالیا گیا۔

فوجی وردی میں ملبوس اہلکاروں کی کارروائی

عراقی وزارت پٹرولیم کے ایک مصدقہ ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کوبتایا کہ داعش سے آزاد کرانے کے ایک ماہ کے اندر اندر بیجی آئل فیلڈ کو دوبارہ آپریشنل حالت میں لایا جاسکتا تھا مگر دسمبر 2015ء کو اس میں فوجی وردی میں ملبوس اہلکار داخل ہوئے اسے بند کردیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اب عراق کی یہ سب سے بڑی آئل ریفائنری بحالی کے قابل نہیں رہی۔ اس کا تمام سامان اور آلات چوری کرلیے گئے ہیں۔ اس کے تمام بنیادی حصے توڑپھوڑ دیے گئے۔ داعش کی تباہی سے بچ جانے والے اجزاء یا تو موجود نہیں یا ناکارہ ہوچکے ہیں۔

عراق کے سابق رکن پارلیمنٹ مشعان الجبوری کا کہنا ہے کہ داعش کےقبضے سے چھڑانے کے وقت بیجی آئل ریفائنری میں توڑ پھوڑ 20 فی صد تھی مگر اب ریفائنری کا 85 فی صد توڑپھوڑ کی نذر کردیا گیا ہے۔

عراق کے سابق نائب وزیراعظم سلام الزوبعی نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سابقہ حکومتوں‌نے بیجی آئل ریفائنری میں ہونے والی توڑپھوڑ اورلوٹ مار کی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں مگر ایک شخص نے بلیک میلنگ کرتے ہوئے بیجی آئل ریفائنری کا سامان خرید کرنے کے بعد اسے صوبہ کردستان میں منتقل کرنے کی کوشش کی تھی۔

الزوبعی نے کہا کہ بیجی آئل فیلڈ کی چوری اور سودے بازی کی تحقیقات جاری ہیں۔ اسے چار ارب ڈالر کے بجائے صرف ایک ارب ڈالر میں فروخت کردیا گیا۔