.

شام میں "سکیورٹی زون" کا قیام ایردوآن اور پوتین کی ملاقات میں اہم ترین معاملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن آج بدھ کے روز ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتین سے ملاقات میں شام کے حوالے سے بات چیت کر رہے ہیں۔ ترکی کے مطابق بات چیت میں توجہ کا مرکز شمالی شام میں ایک "سکیورٹی زون" کا قیام ہو گا۔

واضح رہے کہ دونوں سربراہان شام کے بحران کے حوالے سے دو انتہائی کناروں پر کھڑے ہیں۔ روس شامی حکومت کو سپورٹ کر رہا ہے جب کہ ترکی بشار الاسد کی حکومت کے مخالف عناصر کا حامی ہے۔

اس حقیقت کے باوجود دونوں ممالک مل کر سات برس سے جاری جنگ کے لیے کسی سیاسی حل کی تلاش کے واسطے کام کر رہے ہیں۔

ایردوآن نے پیر کے روز اپنے خطاب میں کہا کہ وہ روسی صدر کے ساتھ بات چیت میں شمالی شام میں ترکی کے زیر کنٹرول ایک "سکیورٹی زون" کے قیام سے متعلق ٹرمپ کی تجویز کو زیر بحث لائیں گے۔

تاہم امریکا کے اتحادی شام کے کردوں نے جو ملک کے شمال میں ایک بڑے حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں ،،، انہوں نے اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ کردوں کو اندیشہ ہے کہ ترکی ممکنہ طور پر ان کے زیر کنٹرول علاقوں پر حملہ کر دے گا۔

غالبا ماسکو بھی اس تجویز کا مخالف ہے۔ بالخصوص روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں کہا تھا کہ شامی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک کے شمالی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے۔

کرملن ہاؤس نے شمالی شام کے مرکزی شہر منبج میں بشار کی فوج کے داخل ہونے کو سراہا تھا۔

ماسکو اس بات کی منصوبہ بندی کر رہا ہے کہ آستانا امن عمل کے حصے کے طور پر رواں سال کے آغاز میں ترکی اور ایران کے ساتھ مل کر ایک سہ فریقی سربراہ ملاقات کا انعقاد کرے۔ آستانا امن عمل کا آغاز مذکورہ تینوں ممالک نے 2017 میں کیا تھا۔

دوسری جانب پوتین کے مشیر برائے خارجہ پالیسی یوری اوشاکوف نے گزشتہ ہفتے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ "ابھی تک سہ فریقی سربراہ اجلاس کی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے تاہم ایردوآن کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہم اس اجلاس کی تیاری شروع کر دیں گے"۔

ایردوآن ، پوتین اور ایرانی صدر حسن روحانی کے درمیان آخری اجلاس گزشتہ برس ستمبر میں ایران میں منعقد ہوا تھا جس کے ایجنڈے میں ادلب صوبے کا انجام سرفہرست رہا تھا۔