.

یوسف القرضاوی نے انٹرنیٹ کے ذریعے کس طرح شدت پسندی پھیلائی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسداد دہشت گردی اور شدت پسندی کی تنظیم Counter Extremism Project (CEP) کا کہنا ہے کہ الاخوان المسلمین تنظیم کے ارکان اپنی شدت پسندی پر مبنی تقاریر کے باجود انٹرنیٹ پر بھرپور طور پر موجود ہیں۔

مذکورہ سی ای پی تنظیم کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 برس قبل القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے مبلغ انور العولقی کی امریکی ڈرون حملے میں موت واقع ہو گئی تھی۔ تاہم موت کے بعد بھی العولقی کا کام اور لیکچر انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔

سی ای پی کی کئی برس کی مسلسل کوشش کے بعد نومبر 2017 میںYouTube پر العولقی کے وڈیو کلپس کو دیکھنے جانے کی تعداد 70000 سے کم ہو کر چند ہزار تک رہ گئی۔ البتہ العولقی کی وڈیوز ایک بڑی تعداد میں دیگر ویب سائٹوں پر بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر شدت پسندوں کی وڈیوز بھی ہیں جن میں بنیاد پرستی، دہشت گردی اور تشدد کی دعوت دی جا رہی ہے۔

سی ای پی نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ان شدت پسندوں اور دہشت گردی کی دعوت دینے والوں کی کارستانیوں کو منظرعام پر لانے کے لیے مہم جاری رکھی جائے گی اور اس سلسلے میں آغاز یوسف القرضاوی سے کیا جا رہا ہے۔

سی ای پی کے چیف ایگزیکٹو مارک ڈی ویلاس کے مطابق کئی برس کی مہم کے نتیجے میں گوگل سرچ انجن کو اس بات پر قائل کر لیا گیا کہ بنیاد پرستی پر مبنی العولقی کے لیکچرز خطرناک طریقے سے دہشت گرد کارروائیوں اور بے قصور افراد کی جانوں کو ختم کرنے کے ساتھ مربوط ہیں۔ گوگل اور دیگر سرچ انجنوں کو جان لینا چاہیے کہ العولقی اور القرضاوی جیسی شخصیات کے پیغامات انتہائی خطرناک ہیں اور ان کو جلد از جلد مستقل طور پر انٹرنیٹ سے حذف کر دینا چاہیے۔

مصری نژاد مبلغ یوسف القرضاوی دوحہ میں سکونت پذیر ہیں۔ وہ غیر سرکاری طور پر الاخوان المسلمین کے روحانی قائد سمجھے جاتے ہیں۔ وہ اسرائیل میں خود کش دھماکوں اور عراق میں شہریوں پر حملوں کی سپورٹ کے باوجود انٹرنیٹ پر بہت مقبول ہیں۔

القرضاوی ایک تنظیم اتحاد الخیر کے سربراہ کے طور پر بھی کام کر رہے ہیں۔ امریکی حکومت نے 2008 میں اعلان کیا تھا کہ یہ تنظیم حماس کی مالی سپورٹ کے لیے ایک چینل کے طور پر کام کر رہی ہے۔ القرضاوی ڈبلن میں یورپین کونسل فار فتوی اینڈ ریسرچ کے بھی بانی ہیں۔ یہ کونسل الاخوان المسلمین کے زیر انتظام ادارہ ہے جو یورپی مسلمانوں کے لیے فتوے جاری کرتا ہے۔

سی ای پی کے ایک محقق جوشوا فيشر کا کہنا ہے کہ القرضاوی کو جو چیز دیگر شدت پسندوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ سوشل میڈیا پر پلیٹ فارمز پھیلانے میں ان کو کثیر ذرائع حاصل ہیں۔

القرضاوی کی جانب سے شرعی پہلو سے تصدیق اُس شدت پسندی کو قانونی حیثیت فراہم کرتی ہے جو وہ انٹرنیٹ پر اپنے پلیٹ فارمز سے پھیلا رہے ہوتے ہیں۔

اس سلسلے میں قطر کے الجزیرہ چینل پر بار بار نمودار ہونے سے سوشل میڈیا پر ان کے کلپس بآسانی مل جاتے ہیں۔ اس طرح انٹرنیٹ پر سے ان وڈیو کلپس کو ختم کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

سی ای پی کے تجزیے کے مطابق انٹرنیٹ پر صرف عربی زبان میں القرضاوی کے نام سے سرچ کرنے پر ہی 75,600 نتائج سامنے آجاتے ہیں۔

القرضاوی میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے مشرق وسطی اور اس کے بیرون وسیع پیمانے پر اپنی موجودگی کو یقینی بناتے ہیں۔ الجزیرہ چینل پر ہفتہ وار پروگرام "الشريعة والحياة" کے ناظرین کی تعداد کا اندازہ 6 کروڑ کے قریب لگایا گیا ہے۔

القرضاوی انٹرنیٹ پر مشہور ویب سائٹ IslamOnline.net کے بانی ہیں۔ اس ویب سائٹ نے دسمبر 2018 میں 940,000 وزیٹرز ریکارڈ کیے۔ علاوہ ازیں القرضاوی کی ذاتی ویب سائٹ GoDaddy اور Cloudflare پر بھی رجسٹرڈ ہے جہاں بڑی تعداد میں وڈیو کلپس اور مضامین اور آڈیو لیکچرز موجود ہیں۔

سی ای پی CEP تنظیم شدت پسند جماعتوں کے خلاف عالمی سطح پر مہم چلا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے ان جماعتوں کو مالی سپورٹ کرنے والی نیٹ ورکس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے، انٹرنیٹ پر سے شدت پسندوں کی بیان کردہ آپ بیتیاں مٹائی جاتی ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعے بھرتی کی کارروائیوں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی سطح پر دہشت گردی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے بھرپور قانون سازی اور پالیسیوں کے بنانے کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔