’’ایرانی نوٹوں کی چھپائی کا خرچہ کرنسی کی قدر سے تجاوز کر گیا’’

500 کے نوٹ پر 400 تومان خرچ ہونے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے مرکزی بنک کے چیئرمین عبدالناصر ہمتی کا کہنا ہے کہ مقامی کرنسی کے چار صفر کم کرنے کے عمل میں دو سال کا وقت لگ سکتا ہے، اس کے بعد نئے کرنسی نوٹ پرانے نوٹوں کی جگہ لے سکیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی مرکزی بنک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کرنسی سکوں کے لیے استعمال ہونےوالی دھاتوں کی قیمت سکوں سے بڑھ گئی ہے۔

عبدالناصر ھمتی کا کہنا تھا کہ نئے کرنسی نوٹوں کی پرنٹنگ پر ان کی مالیت سے زیادہ لاگت آ رہی ہے۔ 500 تومان کرنسی نوٹوں پر 400 تومان خرچ ہورہے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پرعاید کی جانے والی اقتصادی پابندیوں کے باعث ایرانی کرنسی کی قیمت تیزی کے ساتھ کم ہو رہی ہے۔ گذشتہ دو سال کے دوران ایران کی مقامی کرنسی کی قیمت نصف رہ گئی ہے۔ دوسری جانب کرنسی کی ویلیو میں کمی کے باعث افراط زر میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے۔ حکومت نے کرنسی کی گرتی قیمت بچانے کے لیے صفر کم کرنے کا عمل شروع کیاتھا جس کے تحت کرنسی کے نئے نوٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔

سنہ 2017ء میں ایرانی مرکزی بنک نے ایک صفر کم کرنے کی پالیسی اختیار کیا مگر اب حکومت چار صفر کم کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے مگر اس پر کم سے کم دو سال کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ایرانی کرنسی میں چار صفر کم کرنے کے بعد ایک ملین ریال 100 ریال کے برابر ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں