حوثی رہنما پر یمنی شہریوں کی نجی زندگی میں شرمناک مداخلت کے الزامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ حوثیوں کے فوجی عہدیدار خواتین، بچیوں کے اغواء کے ساتھ شہریوں کی جاسوسی اور فون کال ٹیپنگ جیسے اوچھے ہتکھنڈوں میں‌ ملوث ہیں۔

یمن میں انسانی تجارت کی روک تھام کے لیے سرگرم تنظیم کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ میں‌ بتایا گیا ہے کہ تنظیم کو سلطان زابن نامی حوثی رہنما سے متعلق اہم معلومات ملی ہیں۔ موصوف نے جاسوسی کا ایک نیٹ ورک تشکیل دے رکھا ہے جس کے وہ شہریوں‌ کی فون کالز ریکارڈ کر کے شہریوں کی نجی زندگی میں مداخلت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم نے خواتین کے اغواء اور شہریوں کی جاسوسی کو انسانی حقوق کی سنگین پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باغی حوثی رہنما بین الاقوامی قوانین کی بری طرح پامالی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ شہریوں کی جاسوسی، ان کے نجی امور میں مداخلت اور شہریوں کی فون کالیں ریکارڈ کرنا بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق حوثی رہنما سلطان زابن اور اس کے ایجنٹ شہریوں‌ کی ذاتی زندگی میں مداخلت کر کے انہیں بلیک میل کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں