قطر کا الغفران قبیلے کے افراد کی شہریت منسوخ کرنے کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

قطر میں انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین علی بن صمیخ المری نے اعتراف کیا ہے کہ سنہ 1996ء میں حکومت اور الغفران قبیلے کے درمیان بحران پیدا ہوا جس کے بعد اس قبیلےکے بعض افراد کی قطری شہریت ختم کردی گئی تھی۔

العربیہ چینل کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے خطاب کے بعد ایک پریس کانفرنس کے دوران علی صمیخ المری کو الغفران قبیلے کے شہریت منسوخی سے متاثرہ افرادکا بھی سامناکرنا پڑا مگر قطری عہدیدار ان کے سوالوں کاجواب نہ دے سکے۔

اس موقع پر متاثرین میں شامل حمد العرک الغبرانی نے میں جاننا چاہتا ہوں‌کے ہمارے آبائو اجداد کی قطری شہریت کیوں منسوخ کی گئی۔ جب ہمارے خاندان کی شہریت منسوخ کی گئی تو اس وقت میری عمر نو سال تھی۔

الغبرانی نے اپنا اور اپنے داد کا پاسپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ میں اور میرا خاندان قطر کے شہری ہیں مگر حکومت نے ہمیں اپنے ملک سے کیوں نکال رکھا ہے۔ ہماری قطری شہریت کی منسوخی کے اسباب دنیا کو بتائےجائیں۔

خیال رہےکہ سنہ 1996ء میں قطر نے الغفران قبیلے کے 6 ہزار افراد کی شہریت منسوخ کرکے انہیں سرکاری ملازمتوں سے بھی نکال دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں