امریکا، عراقی سنی قبائل کو ایران کے خلاف استعمال کر رہا ہے؟ حقیقت جانئے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کی سرزمین پر ایرانی مداخلت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بیک وقت کئی بحرانوں کا سامنا کرنے والے بلاد الرافدین کو ایران سے بھی مسلسل مداخلت کا سامنا ہے۔ ایرانی رجیم، عراق کی خراب دفاعی اور ابتر معاشی صورت حال سے فائدہ اٹھا کر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کوشاں رہا ہے۔

باوثوق عراقی ذرائع نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ ایرانی رجیم، عراق میں اہل سنت والجماعت مسلک کے قبائل کو امریکیوں کے خلاف لڑائی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہی ذرائع کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے سمندرپار کارروائیاں کرنے والے ’القدس یونٹ' کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی نے بغداد اور شمالی عراق میں عرب سنی قبائلی عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔

گذشتہ ہفتےعراق کے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی عراق کے سنی قبائل سے ملاقات کی۔ اس ملاقات پر کافی لے دے ہوئی کیونکہ یہ ملاقات عراقی حکومت کی اجازت کے بغیر اور سرکاری پروٹوکول سے ہٹ کر گئی تھی۔

عراق کے متنازع علاقوں میں عرب قبائلی اتحاد کے ترجمان الشیخ مزاحم الحویت نے کہا کہ عراقی قبائل نے ایرانی پالیسی کو شدت کے ساتھ مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران حالات کوگڈ مڈ کرنے اورعراق کےسنی قبائل کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش میں‌ ہے مگر اسے اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

الشیخ الحویت نے کہا کہ جو قبائل اس وقت ایران کے حوالے سےنرم گوشہ رکھتے یا ایرانی رجیم کے ساتھ کسی قسم کے تعاون کے لیے تیار ہیں وہ اس سے قبل شدت پسند تنظیم 'داعش' کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے عوامی مظاہرے کیے اور داعش کے لیے عراق میں داخل ہونے کی راہ ہموار کی۔ ان کی کوششوں سے داعش مغربی عراق کے اضلاع میں داخل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران امریکی فوج کی عدم موجودگی سے فایدہ اٹھا کر سنی قبائل کو امریکیوں کے خلاف مسلح کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

الشیخ الحویت نے کہا کہ متنازع علاقوں کے سنی قبائل میں سے بعض امریکیوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عراق میں ایرانی اثر ورسوخ کی روک تھام کے لیے امریکا ہی مضبوط رکاوٹ اور داعش کی واپسی روک سکتا ہے۔

عراق کی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے رہ نما محمود المرضی کا کہنا ہے کہ الانبار میں امریکی مفادات اور اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ الحشد اس وقت عراق کی ایک بڑی قوت بن چکی ہے۔ امریکیوں کے مقابلے میں ہم کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کریں‌ گے۔ ہم جرات مندانہ فیصلے کریں گے تاکہ غیر ملکی قابض فوج کو بے دخل کیا جا سکے۔

ادھر عراق کے ایک سیاسی تجزیہ نگار راد الحامد کا کہنا ہے کہ عراق کے سنی قبائل امریکی فوج کے خلاف مسلح جنگ کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے باہر سنی قبائل انتظار کی کیفیت میں ہیں اور وہ امریکیوں کے ساتھ کسی قسم کی مسلح محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں