اسرائیلی عدالت کا انوکھا فیصلہ، مقبوضہ القدس میں یاسرعرفات کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیل کی ایک عدالت نے انوکھا فیصلہ سنایا ہے اور مقبوضہ مشرقی القدس میں فلسطین کے لیجنڈ مرحوم لیڈر یاسرعرفات کی واقع جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ یاسر عرفات اس جائیداد کے شریک مالک تھے ۔ عدالت نے فلسطینی اتھارٹی کے ذمے واجبات کی عدم ادائی پر اس جائیداد کو ضمنی نقصان کے طور پر قبضے میں لینے کا حکم دیا ہے۔

مقبوضہ یروشلیم کی ضلعی عدالت کے اس فیصلے میں مرحوم یاسر عرفات کی جائیداد ( عرفات اسٹیٹ) کو مدعا علیہ قرار دیا گیا ہے۔عدالت نے اس کو اسرائیلی انتظامیہ کے قبضے میں دینے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ عرفات اسٹیٹ 30 دن میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتی ہے ۔اس صورت میں کیس پر کوئی نیا حکم کسی نئی سماعت کے بعد ہی دیا جائے گا۔

اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم شورات حدین نے مقبوضہ مشرقی یروشلیم میں مرحوم یاسر عرفات کی جائیداد پر ایک دیوانی دعوے پر فیصلہ ہونے تک قبضے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی تھی۔اس نے فلسطینی اتھارٹی ، تنظیم آزادیِ فلسطین ( پی ایل او ) اور عرفات اسٹیٹ کے خلاف فلسطینی حملوں سے متاثرہ آٹھ خاندانوں کی جانب سے نقصانات پر دلا پانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

شورات حدین کی سربراہ نتسانا دارشن لائٹنر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ یہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کو انصاف دلانے کی جانب پہلا اہم قدم ہے۔جائیداد پر قبضہ ضروری تھا کیونکہ اگر دعویٰ ثابت ہوجاتا ہے تو پھر نقصانات کا ازالہ مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔

اس اسرائیلی عورت نے کہا کہ ’’ ہم مقبوضہ بیت المقدس کے قلب میں عرفات اسٹیٹ کو ایسی صورت حال میں قطعہ اراضی اپنے پاس رکھنے کی اجازت نہیں دیں گے جبکہ وہ متاثرین کو ان کے نقصانات کا ہرجانہ ادا نہ کرے‘‘۔

یاسرعرفات کے بھتیجے ناصر القدوہ نے یروشلیم کی عدالت کے اس فیصلے کے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ ان کے لیے بالکل ناقابل قبول ہے۔انھوں نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ’’ اسرائیلی عدالت نے جس جائیداد کو ضبط کرنے کا حکم دیا ہے، اس میں یاسر عرفات اور ان کے بھائیوں کا حصہ بہت تھوڑا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کا فیصلہ چوروں ، لٹیروں اور ڈاکووں ہی کا کام ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ عرفات اسٹیٹ کی ملکیتی یہ جائیداد قریباً 2700 مربع میٹر (29 ہزار مربع فٹ) ہے اور یہ جبلِ زیتون پر واقع ہے ۔یہاں سے مقبوضہ بیت المقدس کا قدیم شہر اور مسجد الاقصیٰ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں