.

خزعلی نے الحشد ملیشیا کو پاسداران انقلاب سے تشبیہ دینے سے کیوں انکار کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سرگرم 'عصائب اھل الحق' نامی ایک شیعہ عسکری گروپ کے سربراہ قیس الخزعلی نے عراقی ذرائع ابلاغ کو دیئے گئے انٹرویو میں الحشد الشعبی ملیشیا کو ایران کے پاسداران انقلاب کے ساتھ تشبیہ دینے سے انکار کردیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ عراق کے سرکردہ عسکری گروپوں کے لیڈروں بالخصوص قیس الخزعلی کا الحشد الشعبی کے بارے میں تازہ موقف 'سیاسی تقیہ' ہے جو اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ ایران اور عراق میں اس کی حامی ملیشیائوں‌پر امریکی دبائو اپنے اثرات دکھا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الخزعلی نے اعتراف کیا کہ عراق کے عسکری گروپ عراقی سماج سے ہم آہنگی نہیں رکھتے۔ ان کا اشارہ اپنے سیاسی بلاک 'صادقون' کی طرف تھا جس نے پارلیمنٹ میں 15 نشستیں حاصل کی ہیں تاہم سیاست کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا تھا کہ وہ اچانک اسلحہ چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کریں گے۔

الخزعلی نے لبنانی حزب اللہ کے عراق میں کلوننگ کے تجربے کو منطقی غلطی قرار دیا اور کہا کہ حزب اللہ کی کلوننگ ریاست کے اندر ریاست کا تجربہ کرنے کے مترادف ہے اس کے نتیجے میں مرکزی ریاست کم زور ہوسکتی ہے۔

تجزیہ نگار رعد ھاشم نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خزعلی نے پاسداران اور الحشد الشعبی ملیشیا کے تقابل کا جو تجزیہ کیا ہے وہ حقائق کے مطابق نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خز علی کے فلسفے کو صرف ان کے اپنے حامی ہی قبول کرسکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ الحشد الشعبی عراق سے زیادہ ایران کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔