.

سلیمانی امریکا کی نظروں میں آ گیا مگر اس کی ہلاکت کا موقع ضائع کر دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ریٹائرڈ جنرل اسٹینلے مکریسٹل نے ایرانی پاسداران انقلاب کی تنظیم سپاہِ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کو انتہائی خطرناک شخصیت قرار دیا ہے۔ مکریسٹل نے 2009 اور 2010 میں افغانستان میں امریکا اور نیٹو اتحاد کی فورسز کے آپریشنز کی کمان سنبھالی تھی۔

جنرل مکریسٹل نے 3 روز قبل امریکی جریدے فارن پالیسی میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں اس ایرانی کمانڈر کے خطرے کو تفصیل سے بیان کیا ہے جو حالیہ سالوں میں شام اور عراق میں ایک اہم کردار کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

مضمون میں مکریسٹل نے 2007 میں قاسم سلیمانی کو ہلاک کرنے کے لیے بروقت فیصلہ نہ کرنے پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔ مکریسٹل کے مطابق وہ اس وقت عراق میں امریکا کے مشترکہ اسپیشل آپریشنز JSOC کی کمان کے سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ جنوری 2007 کی ایک رات گاڑیوں کا ایک قافلہ ایران سے شمالی عراق کی جانب جا رہا تھا۔ امریکی جنرل کا کہنا ہے کہ اس قافلے میں قاسلم سلیمانی بھی موجود تھا تاہم قافلے پر حملہ کرنے یا نہ کرنے کے حوالے سے اس رات فیصلہ کرنا زندگی کا انتہائی مشکل وقت بن گیا۔

مکریسٹل نے واضح کیا کہ اُس وقت سلیمانی کو ختم کرنے کا ایک مضبوط سبب تھا۔ عراقی کے گلی کوچوں میں پھٹنے والے ایرانی ساختہ دھماکا خیز آلات سلیمانی کے حکم سے تیار کر کے پھیلائے جا رہے تھے۔ ان آلات کے دھماکوں نے پورے عراق میں بہت سے امریکی فوجیوں کی جان لی تھی۔

اس روز حتمی فیصلے میں ہچکچاہٹ کی وجہ بیان کرتے ہوئے مکریسٹل نے کہا کہ وہ لڑائی کا معرکہ شروع کرنے سے گریز کر رہے تھے جس کے باعث متنازع سیاسی مواقف سامنے آ سکتے تھے۔ مکریسٹل نے فوری طور پر قافلے کو نشانہ بنانے کے بجائے اس کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں قافلے کے اربیل پہنچنے پر سلیمانی رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گیا۔

مکریسٹل کے مطابق ان دنوں سلیمانی نظروں سے اوجھل رہ کر کام کر رہا تھا۔ تاہم بعد ازاں وہ محض ایک غیر معروف عسکری قائد سے تبدیل ہو کر ایسے شخص کا روپ دھار گیا جو قاتل پتلیوں کو کنٹرول کرنے لگا اور پڑوس میں ایران کے اثر و نفوذ کو مضبوط کرنے میں مصروف ہو گیا۔

امریکی جنرل کے نزدیک "یہ کہا جا سکتا ہے کہ سلیمانی آج مشرق وسطی میں بنا کسی روک ٹوک کے ایران کا سب سے زیادہ طاقت ور نمائندہ بن چکا ہے"۔ مکریسٹل نے امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے عہدے داران کے بیانات کی روشنی میں بتایا کہ سلیمانی ایران کے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے شام میں خانہ جنگی کے انتظامی امور کو تنہا چلا رہا ہے۔

مکریسٹل نے بتایا کہ 1979 میں جب کہ سلیمانی صرف 22 برس کا تھا ،،، اس نے ایرانی فوج میں ابتدائی سیڑھیاں چڑھنا شروع کیں۔ اس نے صرف 6 ہفتوں کی تربیت حاصل کرنے کے بعد ایران میں مغربی آذربائیجان کے ریجن میں اپنی زندگی کا پہلا معرکہ دیکھا۔ البتہ سلیمانی اگلے برس بھڑکنے والی ایران عراق جنگ کے دوران صحیح معنوں میں عسکری داؤ پیچ سیکھنے کے میدان میں اترا۔

شام میں ایران کے شیعہ حلیفوں کی معاونت کے حوالے سے سلیمانی سے زیادہ کامیاب کوئی شخص نہیں۔ مکریسٹل کے مطابق 1998 سے سپاہ قدس فورسز کا کمانڈر رہنا ،،، یہ چیز سلیمانی کی سپورٹ میں ایک اہم اضافی عنصر ہے۔