ایران نے جوہری سرگرمیاں بند نہیں کیں: علی اکبر صالحی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے چیئرمین علی اکبر صالحی نے کہا ہے کہ تہران نے سنہ 2015ء میں جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے معاہدے کے بعد بھی جوہری سرگرمیاں جاری رکھی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق علی اکبرصالحی کے ایران کے چینل 4 کودیئے گئے انٹرویو کے بعض اقتباسات سوشل میڈیا پر شائع کیے گئے ہیں جن میں ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ 'آراک' جوہری پلانٹ میں ایندھن ذخیرہ کرنے کے لیے لگائے گئے پائپوں میں‌ کنکریٹ بھردی جائے گی۔ ہم نے ایسا ہی کیا مگر ریاست کی اعلیٰ اتھارٹی کے حکم پر ہم نے نئے پائپ خرید کر ان میں‌ایندھن بھر دیا۔ اگر ہم اس کا پہلے اعلان کرتے تو دوسرے ممالک ہم پر ان پائپوں میں‌ بھی کنکریٹ بھرنے کے لیے دبائو ڈالتے مگر ہم نے خاموشی اختیار کی۔

علی اکبر صالحی کا مزید کہنا تھا کہ جوہری ایندھن کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے پائپوں کی خریداری کا حکم آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے دیا گیا تھا۔ سپریم لیڈر نے ہدایت کی کہ امریکیوں اور یورپین پر اعتماد نہ کیا جائے۔ ہمیں خود کو ہر طرح‌ کے حالات کے لیے تیار رکھنا ہوگا۔

امریکی اخبار'نیویارک ٹائمز' کے مطابق اسرائیل کے خفیہ ادارے'موساد' نے اپنے جاسوسوں کی مدد سے تہران میں ایک جوہری گودام کی تفصیلات حاصل کی تھیں جن میں‌یہ بھی بتایا گیا تھا کہ معاہدے کے باوجود ایران نے پانی جوہری سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں