عراق: موصل کے گرجا گھروں میں لوٹ مار کا الزام برطانوی کمپنی پر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق کے شمالی شہر موصل میں سرکاری اجازت کے بغیر صحافیوں کا داخلہ ممنوع ہو چکا ہے۔ یہ اقدام شہر کے وسط میں واقع گرجا گھروںاور اہم آثاریاتی مقامات کے لوٹ مار اور تخریب کاری کی لپیٹ میں آنے کے بعد کیا گیا۔

ان گرجا گھروں میں موصل کا اہم ترین اور قدیم کلیسائے عذرا شامل ہے۔ عینی شاہدین اور سرکاری ذمے داران کے مطابق برطانیہ کی ایک تنظیم اور ایک کمپنی پر تخریبی عمل اور چھٹی صدی عیسوی کے مخطوطات اور قدیم انجیلوں کے سرقے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اس حوالے سے الحمدانیہ ضلع کے سابق ڈپٹی کمشنر نیسان کرومی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ذمے دار برطانوی کمپنی الحمدانیہ کلیسا میں داخل ہوئی اور اس نے کلیسا کے اہم حصوں کو برباد کر دیا اور کیتھولک بشپس کی قبروں کو بھی کھود ڈالا۔

اسی دوران آثاریاتی اہمیت کے حامل تاریخی مخطوطات اور قدیم انجیلیں بھی لاپتہ ہو گئیں۔ نیسان کرومی نے موصل شہر کو آزاد کرائے جانے کے دو سال بعد بارودی سرنگوں کے ہٹائے جانے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا کلیساؤں اور قدیم آثاریاتی علاقوں سے بارودی سرنگیں صاف کرنے کا یہ ہی طریقہ ہوتا ہے؟

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم حمورابی کے نائب سربراہ لوئی مرقس ایوب کا کہنا ہے کہ وہ 13 جنوری 2019 کو موصل کے علاقے المیدان میں دو کلیساؤں "القعلہ" اور "عذراء" میں چوری اور لوٹ مار کے واقعات کے عینی شاہد ہیں۔ ایوب کے مطابق کلیسائے عذرا تو علاقے کے مسلمانوں میں بھی معروف ہے اور وہ مسیحیوں کے ساتھ اس کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔

یہ کلیسا چھٹی صدی عیسوی کا ہے اور اپنے مختلف طرز تعمیر کے سبب امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔ لوئی مرقس ایوب نے باور کرایا کہ القعلہ کلیسا میں توڑ پھوڑ کی کارروائیوں کے ذریعے بربادی پھیلائی گئی۔ یہ کلیسا تقریبا 200 سال پرانا ہے جس کی دیواریں مکمل طور پر تباہ کر دی گئیں اور یہاں مدفون کیتھولک بشپس کی قبروں کو اکھاڑ دیا گیا۔ قبروں کے اکھاڑنے کا سبب معلوم کرنے پر برطانوی کمپنی کے ورکروں نے کہا کہ ان کا مقصد بارودی سرنگیں تلاش کرنا ہے۔

ادھر سورایا مسیحی ثقافتی تنظیم کے سربراہ نوزاد بولس الحکیم نے باور کرایا کہ چند سال قبل جاری ایک سرکاری کتابچے میں عراق کی وزارت صحت و ماحولیات نے بارودی سرنگوں کے امور کے محکمے سے مطالبہ کیا تھا کہ برطانوی کمپنیG4S اور بارودی سرنگیں ہٹانے والی برطانوی تنظیم کو کام کرنے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر موصل سے نکال دیا جائے۔

اس دوران العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرنے والے موصل کے شہریوں کے نزدیک مذکورہ کلیساؤں اور خانقاہوں سے آثار قدیمہ کے مخطوطات اور انجیلوں کا سرقہ درحقیقت دہشت گرد تنظیموں اور داعش کی جانب سے موصل کے آثاریات کی تباہی کے سلسلے کی ہی کڑی ہے۔ اس دوران حضرت یونس علیہ السلام کے مزار، الحدباء کے مینار اور جامع مسجد النوری کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسی طرح موصل کے میوزیم میں داعش تنظیم کے دہشت گردوں نے بیلچوں اور کدالوں سے قدیم زمانے کے آثار کو برباد کر ڈالا تھا۔

اس حوالے سے عراق کے علاقے تلکیف کے ڈپٹی کمشنر باسم بلو کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ متنازع اور حیرت کن ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ "آثار قدیمہ سے متعلق علاقوں میں بارودی سرنگیں ہٹانے کا کام متعلقہ ماہرین کی موجودگی کے بغیر کیوں انجام دیا جا رہا ہے؟"۔

باسم بلو نے باور کرایا کہ اس بربادی کی ذمے داری نینوی صوبے میں آثار قدیمہ کے معائنہ کاروں کی ٹیم کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے جو موصل شہر میں آثاریاتی یادگاروں کے تحفظ کے ذمے دار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں