.

یورپی ممالک ایران پر امریکی پابندیوں کو کیسے ناکام بنا رہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے سے علاحدگی کے بعد یورپی ممالک تہران کے ساتھ اپنے اقتصادی مفادات کے لئے امریکا کی ایران پر پابندیوں‌ کو ناکام بنانے میں سرگرم ہیں۔ یورپی ممالک کی طرف سے امریکا کی پابندیوں‌ کی تاریک غار کے اوپر سے اقتصادی پل کی تعمیر کی کوششیں جاری ہیں۔ یورپی ممالک متبادل راستوں کے ذریعے امریکی مالیاتی نظام کو دھوکہ دینے اور ایران کے ساتھ اقتصادی تال میل بڑھانے میں سرگرم ہیں۔

حال ہی میں فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط بنانے کے لیے ایک نیا لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ آئندہ چند ایام میں اس نئے پلان کی تفصیلات سامنے آجائیں گی۔

تاہم یورپی ممالک کا ایران کے ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے لیے تیار کردہ نیا پلان بھی کئی مشکالات کا شکار ہے۔ یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ یورپی ممالک کے لیے امریکی پابندیوں کے بعد ایران کے ساتھ بھاری رقوم کے لین دین کے سودے ممکن نہیں‌ ہوں گے۔ کیونکہ ایسا کرنے سے یورپی ممالک بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ پوری دنیا میں دہشت گردی پھیلانے والے ملک ایران کا شمالی اوقیانوس کے ممالک کے ذریعے تجارت کو فروغ دینا اور ڈالر میں لین دین بھی شکوک وشبہات کا شکار ہے۔

امریکا میں قائم تھنک ٹینک 'دفاع ڈیمو کریسی' کے ایرانی امور کے تجزیہ نگار بھنام بن طالبلو نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی خوف یہ ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ تجارت کے نئے یورپی میکنزم پر بھی پابندیاں عاید کرسکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو عین ممکن ہے کہ یورپی تجارتی لائحہ سامنے آنے سے قبل ہی ناکام ہو جائے۔

مجوزہ پلان

تجزیہ نگار طالبلو کا کہنا ہے کہ ایران اور یورپی ممالک کے درمیان متبادل تجارتی پلان میں 'زر مبادلہ کا نیا نظام' ہوسکتا ہے، جس میں سامان کے بدلے میں سامان کا حصول ممکن ہے۔ اسی طرح ڈالر کے سوا دیگر کرنسیوں جن میں یورو شامل میں ایران کے ساتھ لین دین ہوسکتا۔ اس طرح امریکی پابندیوں سے بچا جاسکتا ہے۔

یورپی گیم کے فریق

فی الحال ایران کے ساتھ تجارتی روابط کے لیے متبادلہ میکنزم کی تیاری کی خاطر یورپی یونین کے کسی ملک نے میزبانی کی پیش کش نہیں کی۔ یوں‌ یہ میکنزم بھی یورپی شطرنج کے ایک مہرے کی طرح لگتا ہے۔

تاہم اس پلان کا پہلا حصہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری پروگرام کو بچانا ہے۔ اس حوالے سے اجلاس فرانس کی میزبانی میں‌ ہوگا۔

دوسرا نکتہ ایران کے ساتھ ایرانی بنیادوں‌پر سامان کی آمدو ترسیل ہے اور اس کے لیے سوئٹرزلینڈ مالیاتی چینل قائم کرے گا۔ اس طرح یورپی یونین امریکی پابندیوں سے بچتے ہوئے ایران کے ساتھ تجارت کر سکے گا۔

یورپی پلان سے امریکا بے پرواہ؟

یورپی ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارتی روابط کے متبادل پلان کے حوالے سے امریکا کا رد عمل کیا ہوگا؟ کیا امریکا اسے ناکام بنانے کی کوشش کرہے گا یا نظرانداز کر دے گا۔ گذشتہ برس نومبر میں جب یورپ کے ایران کے ساتھ تجارت کے متبادل پلان کی بات چلی تو امریکی سیکرٹری خزانہ سیگل منڈلکر نے کہا تھا کہ 'واشنگٹن کو یورپی لائحہ عمل پر کوئی تشویش نہیں‌ ہوگی'۔

تاہم ایسے میں امریکا کے پاس ایران کے ساتھ تجارت کرنے والی بڑی کمپنیوں پر پابندیاں عاید کرنے اور انہیں مالی طور پر تنہا کرنے آپشن موجود ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکا چاہے تو ایران کے ساتھ تجارت کے متبادل یورپی پلان کو ناکام بنا سکتا ہے۔ اس کے لیے امریکا یورپی ممالک کے اقتصای اداروں پر پابندیاں عاید کرے گا مگر اس کے لیے مضبوط سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔