.

سعودی صنعتی پروگرام کے ضمن میں 235 ارب ریال کے سمجھوتے ہوں گے : خالد الفالح

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں آج پیر کے روز قومی صنعتی ترقیاتی پروگرام کا آغاز ہو گیا۔ پروگرام کا مقصد مملکت کی معیشت کے 12 سیکٹروں کو تحریک میں لانا ہے۔ ان میں توانائی، پیٹروکیمیکل، گاڑیوں کی صنعت اور کان کنی شامل ہے۔

سعودی عرب کے توانائی، صنعت اور معدنی دولت کے وزیر خالد الفالح نے "العربیہ" سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ قوی صنعتی پروگرام کے ضمن میں 235 ارب ریال کے سمجھوتوں پر دستخط ہوں گے۔ ان میں عسکری صنعت کے ضخیم معاہدوں کے علاوہ ارامکو اور سابک کے درمیان ایک بڑا معاہدہ شامل ہے۔

علاوہ ازیں سعودی عرب میں گاڑیوں کی تیاری کے سیکٹر میں 40 ارب ریال کے تحریکی پروگرام کا بھی اعلان کیا جائے گا۔ اس حوالے سے نجی سیکٹر اور عالمی کمپنیوں کے لیے اہم مواقع دستیاب ہوں گے۔

یاد رہے کہ قومی صنعتی ترقیاتی پروگرام سال 2030 تک سعودی معیشت میں تقریبا 1200 ریال کا حصہ ڈالے گا۔ جو معیشت کے موجودہ حجم کا نصف سے زیادہ حصہ ہے۔ علاوہ ازیں یہ پروگرام مقامی اجزاء کی سطح پر 700 ارب ریال کا اضافہ کرے گا۔ پروگرام کے ذریعے 16 لاکھ نئی ملازمتیں جنم لیں گی اور سعودی عرب کی برآمدات کا حجم 1000 ریال سے تجاوز کر جائے گا۔