.

شامی فضائیہ نے روسی اڈے کے اوپر محوِ پرواز تین مشتبہ ڈرونز مار گرائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے فضائی دفاعی نظام نے ملک کے ساحلی علاقے میں روس کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر پرواز کرنے والے تین مشتبہ ڈرونز کو مار گرایا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ان ’’مخالفانہ اہداف ‘‘ کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے لیکن اس نے مزید تفصیل نہیں بتائی ہے کہ یہ مشتبہ ڈرونز کس نے بھیجے تھے۔شام کے مغربی علاقےمیں حالیہ دنوں میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ترکی اور روس کے درمیان گذشتہ سال طے شدہ اس جنگ بندی پر ستمبر سے عمل درآمد کیا جار ہا ہے۔

روسی صدر کے پریس سیکریٹری دمتری پیسکوف نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ترکی کے ساتھ طے پائے اس سمجھوتے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا ہے۔اس وجہ سے وہاں کی صورت حال شامی حکام او ر ماسکو دونوں کے لیے باعثِ تشویش ہے۔ تاہم انھوں نے ڈرون حملے کے بارے میں کچھ نہیں کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے ان حملہ آور ڈرونز کو روکنے کی کوشش کی تھی جس کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ساحلی صوبہ اللاذقیہ میں ایسے ہی ڈرونز سے روس کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔نومبر میں جنگ بندی کے باوجود روسی اڈے پر ایسا ہی ایک ڈرون حملہ کیا جاچکا ہے۔

ترکی اور روس کی ثالثی میں شام کے مغربی صوبے ادلب میں جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا اور اس کے نتیجے میں شامی فوج نے مسلح گروپوں کے زیر قبضہ اس صوبے میں جنگی کارروائی ملتوی کردی تھی۔اس سمجھوتے کے تحت ایک سکیورٹی زون قائم کیا گیا تھا اور وہاں سے مسلح گروپوں اور فوج نے بھاری ہتھیار ہٹا لیے تھے ۔اب ترک فوجی اس علاقے میں جنگ بندی کی نگرانی کررہے ہیں۔