.

شام میں‌ ایرانی اور روسی فورسز کے درمیان‌ خونی تصادم کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کے ایک موقر اخبار 'ڈر سپیگل' نے دعویٰ‌ کیا ہے کہ شام میں علاقوں میں اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر ایرانی اور روسی فورسز ایک دوسرے کے مدمقابل آنے کے بعد ان میں‌ خونی تصادم ہوا ہے۔

اخباری رپورٹ میں ایک جرمن سیکیورٹی تجزیہ نگار ؛کریسٹوف رویٹر' کے حوالے سے بتایا ہے گیا کہ اسے اسد رجیم کی فوج کی وائر لیس پر ہونے والی بات چیت ریکارڈنگ ملی ہے جس میں حماۃ گورنری میں روسی اور ایرانی فورسز کے درمیان لڑائی کی بات کی گئی ہے۔

کریسٹوف، جو مشرق وسطیٰ کے ممالک کے اخباری نامہ نگار بھی ہیں، کا کہنا ہے کہ بشارالاسد کی مدد کرنے والی دونوں طاقتوں ایران اور روس کی فوجوں میں 19 جنوری کو تصادم ہوا اور دونوں نے ایک دوسرے پر بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں اور بھاری مشین گنوں سے حملے کیے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی جب دوسری جانب شام میں اپنے اپنے نفوذ والے علاقوں کے حوالے سے روس اور ایران کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں آ رہی ہیں۔ خاص طور پر وسطی شام کی حماۃ گورنری میں ایران اور روس ایک دوسرے کے سامنے آ گئے ہیں۔

اخبار ' ڈر سپیگل' کے مطابق حماۃ میں ایرانی اور روسی فورسز کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد شامی فوج نے فورتھ بریگیڈ کے سپاہی حماۃ کے دیہی علاقوں میں کنٹرول کے لیے بھیجے گئے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ شامی فوج کے فورتھ بریگیڈ کی کمان صدر بشار الاسد کے بھائی ماہر الاسد کے پاس ہے مگر اس کے باوجود یہ بریگیڈ ایرانی فوج کے حکم کا پابند ہے۔

دوسری جانب انہی علاقوں میں روس بھی اپنا اثر ونفوذ قائم کرنا چاہتا ہے۔ روسی فوج نے وہاں پر تعینات اسدی فوج کے ففتھ بریگیڈ کو کمک روانہ کی۔ یہ بریگیڈ میجر جنرل سھیل الحسن کی کمان میں کام کر رہا ہے۔

نامہ نگار کریسٹوف رویٹر نے لکھا ہے کہ یہ واضح‌ نہیں کہ ڈکٹیٹر بشارالاسد کیا چاہتے ہیں مگر ایران اور روس کے درمیان ہونے والے خونی تصادم میں انہوں‌ نے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔

اخباری رپورٹ کے مطابق روسی اور ایرانی فورسز کے درمیان یہ لڑائی 19 جنوری کو ہوئی اور دونوں فوجوں نے ایک دوسرے پر بھاری توپ خانے سے گولہ باری کی۔ اس لڑائی میں روسی فوج نے یکے بعد دیگر دیہات ایرانی فوج سے واپس لے لیے۔