.

لبنان امن چاہتا ہے اور حزب اللہ جنگ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے: خالد بن احمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ریاست بحرین کے وزیر‌ خارجہ خالد بن احمد آل خلیفہ نے کہا ہے کہ لبنان ملک میں خوشحالی کے لیے امن چاہتا ہے جب کہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان کو حزب اللہ ملیشیا اور حسن نصراللہ کی پالیسیوں کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ 'ٹویٹر' پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں خالد بن احمد نے سنہ 2002 اور 2009ء کی بیروت میں منعقد ہونے والی سربراہ کانفرنسوں کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ 2002ء میں بیروت میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنس میں تمام عرب قیادت جمع تھی اور اس موقع پر متفقہ طور پر فلسطین ۔ اسرائیل تنازع کے حل کے لیے عرب امن فارمولے کی منظوری دی گئی۔ سنہ 2009ء کی عرب ترقیاتی سربراہ کانفرنس میں بیروت کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے ٹی وی پر ایک ایسا بیان دیا جس نے سب کچھ تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 2002ء کی بیروت عرب سربراہ کانفرنس عرب قیادت نے عرب امن فارمولے کا اعلان کیا اور سنہ 2019ٰء کی بیروت کانفرنس کے بعد حزب اللہ کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ وہ اسرائیل کی سرحد پر عرصے سے سرنگیں کھود رہے ہیں۔ فلسطین کے الجلیل شہر پر قبضہ کرنا ان کا ہدف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لبنان امن چاہتا ہے اور حزب اللہ امن کے مواقع تباہ کررہی ہے۔ لبنان خوش حالی کی طرف بڑھ رہا ہے اور حزب اللہ تباہی کی طرف جا رہی ہے۔ لبنان کو حزب اللہ کی قیمت چکانا ہوگی اور ایران کو بھی اس کی قیمت چکانا ہوگی۔