.

واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام کی عسکری جہتوں کی دوبارہ تحقیق کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایرانی جوہری پروگرام کی عسکری جہتوں کے حوالے سے ایک بار پھر خصوصی تحقیقات کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔ یہ پیش رفت ان رپورٹس میں اضافے کے بعد سامنے آ رہی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ تہران نے اپنی متعدد جوہری سرگرمیوں کا سلسلہ موقوف نہیں کیا۔

بلومبرگ ویب سائٹ کے مطابق امریکی ذمے داران نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اس دوران نئی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ سخت معائنے کی کارروائیوں کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

بلومبرگ کو حاصل ہونے والی دستاویزات اور امریکی ایٹمی توانائی کی ایجنسی کے مشن کے اجلاس (جو ویانا میں امریکی سفارت خانے کے نزدیک منعقدہ ہوا تھا) میں شریک تین سفارت کاروں کے انٹرویوز کے مطابق اس نئے اقدام کا مقصد یورپی حلیفوں کو قائل کرنے میں دشواری کے باوجود ایران کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہے۔

ویانا اجلاس میں شریک سفارت کاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتایا کہ 20 جنوری کو ہونے والے ایٹمی ایجنسی کے آخری اجلاس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے کہا کہ اس بات کے "مرکزی ثبوت" موجود ہیں کہ ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں سے جھوٹ بولا تھا۔

بلومبرگ نے یورپی یونین کی خارجہ تعلقات کی کونسل کے محقق ایلے گرانمے کے حوالے سے بتایا کہ "یہ بات محسوس کی جا رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہے کیوں کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے دوبارہ مذاکرات کی امریکی کوشش کسی پیش رفت سے ہم کنار نہیں ہو رہی ہے۔ یہ بات ملاحظہ کی جا رہی ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف انتہائی دباؤ کی مہم جاری ہے"۔

رپورٹ کے مطابق جون بولٹن نے جوہری معاہدے کے مخالف دو اداروں کے تجزیوں کے بشمول ثبوت پیش کیے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اسرائیل کی جانب سے پیش کردہ نئی معلومات بھی استعمال کیں جن میں بتایا گیا کہ گزشتہ برس کے اوائل میں تہران کے نواح میں اسرائیلی انٹیلی جنس ادارے موساد کی کارروائی کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کا آرکائیو حاصل کر لیا گیا۔

واشنگٹن میں محققین کا دعوی ہے کہ انہوں نے ایران کی ایسی جوہری تنصیب کا پتہ چلایا ہے جو اس سے قبل معلوم نہیں تھی۔

بلومبرگ کے مطابق اس نے ویانا اجلاس میں تقسیم کی جانے والی دستاویزات کو دیکھا ہے۔ بلومبرگ نے بتایا کہ "یہ معلومات ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی سے تقاضا کرتی ہیں کہ وہ ایران کے ماضی کے حوالے سے اپنی تحقیقات کو پھر سے سرگرم کرے اور جوہری ہتھیاروں کا پروگرام شاید ابھی تک جاری ہے"۔

امریکا اُن ٹھکانوں کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کا خواہاں ہے جن کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ واشنگٹن ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی اور ایران کے درمیان ٹکنیکل تعاون کے منصوبوں پر پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔