.

یمن : حوثیوں نے بینکوں کے منافع سے 30% جبری وصولی لاگو کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے تجارتی اور اسلامی بینکوں کے خلاف مجرمانہ کارستانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ حوثیوں نے بینکوں پر مختلف نوعیت کے ٹیکس اور بھتے نافذ کر رکھے ہیں جن کی ادائیگی ان بینکوں کی جانب سے مستقل طور پر جاری ہے۔

اسی لوٹ مار کے سلسلے میں یمنی میڈیا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے تمام بینکوں پر لازم کر دیا ہے کہ وہ گزشتہ برس 2018 کے دوران مجموعی منافع کا 30% حوثیوں کو ادا کریں۔

یمن میں اقتصادی کمیٹی نے العربیہ کو بتایا کہ "حوثی ملیشیا بینکوں کے منافع سے جبری طور پر مختلف تناسب میں اپنا حصہ وصول کرتی ہے۔ حوثیوں نے بینکوں میں نقدی کی نقل و حرکت پر اپنا کنٹرول رکھا ہوا ہے۔ ان لوگوں کی سب سے بڑی فکر نقدی کو اپنے قابو میں رکھنا اور جنگ کی مد میں خرچ کے لیے اسے ایک کھاتے میں رکھنا ہے"۔

ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا بینکوں سے مجموعی منافع کی رقم کا 30% طلب کر رہی ہے اور جو اس سے انکار کرے اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے جب کہ بینک کی سرگرمیوں کو بھی روک دیا جاتا ہے۔

یمنی بینکوں کو جن کے صدر دفاتر دارالحکومت صنعاء میں ہیں انہیں پیچیدہ مسائل کا سامنا ہے۔ حوثی ملیشیا نے ان بینکوں کو صنعاء کے مرکزی بینک میں ڈپازٹ رقم کو بطور قانونی ریزرو استعمال کرنے سے بھی روک دیا ہے۔

یمن میں بینکنگ سیکٹر میں 17 بینک شامل ہیں۔ ان میں نجی سیکٹر کے 9 مقامی بینک، ریاست کی ملکیت میں 4 بینک اور 4 غیر ملکی بینکوں کی شاخیں شامل ہیں۔ ان تمام بینکوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں اہم ترین یہ کہ وہ صنعاء کے مرکزی بینک میں ڈپازٹ اپنی رقوم کو نکلوانے پر قادر نہیں۔

عالمی بینک کی رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اگر جنگ کے بعد فوری صورت میں بینکوں کی سیالیت کو بحال نہ کیا گیا تو بینکنگ سیکٹر میں رقوم جمع کرانے والوں کے عدم اعتماد کے سبب مشکل پیدا ہو جائے گی۔ ڈپازٹس کی رقوم کی واپسی کے بغیر یہ بینکس بنیادی خدمات پیش کرنے سے قاصر رہیں گے۔