.

'جہاد میگزین' بچوں کے ذہن بگاڑنے کا خطرناک حوثی حربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے ایران نواز حوثی باغیوں نے بچوں کے ذہن اور دماغ پر اثرات ہو کر نئی نسل کو گمراہ کرنے کے لیے بھی طرح طرح کے حربے استعمال کرنا شروع کیے ہیں۔ اس مذموم مقصد کی ترویج کے لیے حوثی ذرائع ابلاغ کو بھرپور طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ بچوں‌کے ذہن بگاڑنے اور ان کی سوچ بدلنے کے لیے بھی جرائد شائع کیے جاتے ہیں۔

'مجلہ جہاد' نامی بچوں کا ایک رسالہ صرف بچوں کے لیے مختص ہے جس میں کم سن ذہنوں کو جنگ وجدل پراکسایا جا رہا ہے۔ یہ میگزین ایک ایسے وقت میں شائع ہو رہا ہے جب دوسری طرف حوثی ملیشیا کم عمر بچوں کو جنگ کا براہ راست ایندھن بنا رہی ہے۔

یمن کے ذرائع ابلاغ کے مطابق 'بچوں کا جہاد' میگزین باقاعدگی کے ساتھ شائع ہوتا ہے۔ اس میں بچوں کو خاکوں کی مدد سے تشدد اور جنگ پر اکسایا جاتا ہے۔

یمن کے سماجی کارکنوں نے سوشل میڈیا پر اس جریدے میں شامل مضامین، تصاویر اور خاکے شیئر کرنے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ذہن بگاڑنے کی حوثی سازش کا پردہ چاک کیا ہے۔

سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا ورکروں کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا ایک طرف ملک میں شہریوں کے گھروں کو بموں سے تباہ کر رہی ہے اور دوسری طرف یہ ملیشیا یمن کی نئی نسل کے دماغ پر اثر انداز ہو کر انہیں گمراہ کرنے کے لیے سرگرم ہے۔