.

افغانستان میں مستقل قیام نہیں چاہتے: امریکی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت کے ایک سینیر عہدیدار نے کہا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں اپنی فوج مستقل بنیادوں پر رکھنے کا خواہاں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج افغانستان میں 17 سال سے موجود ہے اور اب فوج کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع ہوسکتا ہے۔

اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے 'روئٹرز' نیوزایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ ایام میں طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں‌جنگ بندی کےلیے امریکا اور طالبان کے درمیان مزید مذاکرات کی ضرورت ہے۔

کابل میں موجود امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم نہیں‌چاہتے کہ امریکی فوج افغانستان میں مستقل بنیادوں پر ٹھہرے۔ افغانستان میں ہمارا ہدف دیر پا امن کا قیام ہے۔ ہم افغانستان میں اچھے اور مثبت اثرات چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں اور ایک ایسا افغانستان دیکھنا چاہتےہیں جو مستقل میں امریکا کے ساتھ مل کر کام کرے۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی عہدیدار نے کہا کہ جب تک افغانستان میں طالبان کے ساتھ جنگ بندی طے نہیں پاتی اس وقت تک امریکی فوج کی واپسی ممکن نہیں۔

قبل ازیں اسی سیاق میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ ان کے ملک میں غیرملکی فورسز عالمی معاہدے کے تحت موجود ہیں اور انہیں طویل مدت کے لیے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں صدر غنی نے کہا کہ افغان عوام زیادہ دیرتک غیرملکی افواج کی موجودگی نہیں چاہتے۔