.

شام: 'داعش' کے آخری گڑھ سے سیکڑوں شہریوں اور جنگجوئوں کا انخلاء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ 'داعش' کے آخری گڑھ دیر الزور سے شہریوں اور جنگجوئوں کا انخلاء جاری ہے۔ اب تک سیکڑوں شہریوں اور جنگجوئوں نے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ'سیرین آبزر ویٹری' کے مطابق اتوارسے شروع ہونےوالے انخلاء کے بعد اب تک 300جنگجوئوں سمیت قریبا 2 ہزارسے زاید شہری دیر الزور گورنری سے نکل چکے ہیں۔

'دیرالزور24' رابطہ گروپ کے مطابق گذشتہ برس ستمبر میں دیر الزور پر قبضہ کرنے والے امریکی حمایت یافتہ جنگجوئوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد شہر سے نکل گئی ہے۔

ادھر امریکی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے داعش کے ایک مقامی کمانڈر اور اس کے ذاتی محافظ کو حراست میں لے لیا ہے۔

داعش کے جنگجو اس وقت دیر الزور کے محدود علاقے میں محصور ہو گئے ہیں اور وہ سیرین ڈیمو کریٹک فورسز کو روکنے کے لیے خود کش حملے کررہے ہیں۔

انسانی حقوق کے آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ دیر الزور میں تلاشی کا عمل جاری ہے اور یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہاں پر داعش کا کوئی سرکردہ کمانڈر موجود نہیں۔