.

عراق : زہریلی گیسوں کا پھیلاؤ ، بصرہ کے لوگوں کی نئی مشکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی صوبے بصرہ میں بنیادی خدمات کی ابتری، بیماریوں کا پھیلاؤ اور بے روزگاری نمایاں ترین مسائل ہیں۔ ان پر گزشتہ برس ستمبر سے عوامی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو اس وقت بھی کم و بیش روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

تاہم بصرہ کے کنوؤں سے نکالے جانے والے پٹرول کے ساتھ پھیلنے والی زہریلی گیسوں نے بصرہ کے لوگوں پر ایک اور بوجھ کی صورت اختیار کر لی ہے جو ان کی جانب سست روی سے بڑھتی موت کی حیثیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں بصرہ میں انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے دفتر نے اتحادی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذکورہ گیسوں کے مسلسل پھیلاؤ کے حوالے سے بصرہ کے لوگوں کو درپیش معاملے پر واضح موقف اختیار کرے۔ دفتر کی جانب سے جاری بیان میں جس کی ایک کاپی "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بھی ملی ہے، کہا گیا کہ بصرہ میں آئل فیلڈز صوبے کے لوگوں کے لیے سانس کے امراض اور دیگر بیماریوں کا باعث بن رہی ہیں۔ علاوہ ازیں ان گیسوں نے صوبے کی فضا بھی ڈھانپ لی ہے اور یہ بارشوں کو بھی زہریلا بنا دیں گی۔

بیان کے مطابق حلیہ چند ماہ کے دوران خطرناک ترین امراض سامنے آئے ہیں جن میں سرطان شامل ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اتحادی حکومت ماحول کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور شط العرب ضلع اور بصرہ صوبے کے جنوب مغربی علاقوں میں کچرا جلانے کا سلسلہ جاری رہنے پر حکومتی اقدامات کے حوالے سے وضاحت پیش کرے۔

دوسری جانب عراق میں الصدری گروپ کے سربراہ مقتدی الصدر کے حمایت یافتہ سیاسی اتحاد "سائرون" نے پیر کے روز بصرہ کی صوبائی کونسل تحلیل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ مذکورہ اتحاد سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمںٹ رامی السکینی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم بصرہ کے لوگوں کی جانب سے صوبائی کونسل تحلیل کرنے کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ ایک آئینی اقدام ہو اور اس سے صوبے میں مقامی حکومت کے کام پر کوئی اثر نہیں پڑے گا"۔ انہوں نے کہا کہ بصرہ کی صوبائی کونسل ڈھیلاہٹ، بدعنوانی اور ٹال مٹول کا شکار ہے۔ عوام کو خدمات پیش کرنے میں ناکامی کے بعد بہترین حل اس کا تحلیل کر دینا ہے۔

واضح رہے کہ بصرہ میں آلودہ پانی کے سبب زہر خوانی کا شکار افراد کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جانے کے بعد گزتہ برس صوبے میں وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کیا گیا۔ تاہم آبی وسائل کی وزارت کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس کی نسبت رواں سال نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی۔